اسلام آباد (سب نیوز)وفاقی بجٹ 27-2026 پر اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد حکومت نے معاملات سنبھالنے اور اتحادیوں کو مطمئن کرنے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کی جانب سے بجٹ پر اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد حکومتی شخصیات نے پارٹی قیادت سے رابطہ کیا ہے اور ان کے تحفظات سے آگاہی حاصل کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے اعتراضات وزیراعظم شہباز شریف تک پہنچانے اور انہیں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ وفاقی بجٹ میں بعض نکات ایسے شامل ہیں جو بجٹ سے قبل پارٹی کے ساتھ شیئر کیے گئے مسودے سے مختلف ہیں، جبکہ بعض وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہی تحفظات کے باعث چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپنا طے شدہ خطاب موخر کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی نمائندوں نے پیپلزپارٹی کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اتحادی جماعت کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پیپلزپارٹی نے بھی حکومتی وضاحت کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں حکومت اور پیپلزپارٹی کی بجٹ کمیٹیوں کے درمیان اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں بجٹ سے متعلق اعتراضات اور ممکنہ تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی اپنی آئندہ سیاسی اور پارلیمانی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گی۔سیاسی حلقوں کے مطابق حکومت اس معاملے کو اتحادی تعاون کے تناظر میں دیکھ رہی ہے اور بجٹ منظوری کے مرحلے میں پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی بجٹ سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث قومی اسمبلی میں ہونے والا اپنا خطاب موخر کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو پارٹی کی بجٹ ٹیم نے وفاقی بجٹ پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں انہیں بتایا گیا کہ موجودہ بجٹ اور پیپلزپارٹی کے ساتھ شیئر کیے گئے بجٹ مسودے میں نمایاں فرق موجود ہے۔بریفنگ کے دوران پیپلزپارٹی کی بجٹ ٹیم نے بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مقف اختیار کیا کہ کئی اہم معاملات پر پارٹی کے ساتھ ہونے والی مشاورت کے نتائج بجٹ میں نظر نہیں آ رہے۔ ذرائع کے مطابق بریفنگ کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے فیصلہ کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے وضاحت موصول ہونے تک قومی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال نہیں کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری حکومتی وضاحت اور تحفظات کے ازالے کے حوالے سے پیشرفت سامنے آنے کے بعد ہی ایوان میں خطاب کریں گے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اس وقت بجٹ کے حوالے سے حکومتی جواب کا انتظار کر رہی ہے اور اس کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلزپارٹی کی بجٹ کمیٹیوں کے درمیان جلد ایک اہم ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں بجٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات، اتحادی جماعت کے مطالبات اور ممکنہ حل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ کی منظوری کے اہم مرحلے میں اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کے لیے سرگرم ہے تاکہ حکومتی اتحاد میں کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو۔
پیپلز پارٹی کے بجٹ اعتراضات پر حکومت متحرک، تحفظات دور کرنے کے لیے رابطے تیز
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

