اسلام آباد(آئی پی ایس ) وفاقی وزیر ہاسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات پاکستان کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، جس کے باعث ملک کو قدرتی آفات اور ماحولیاتی چیلنجز کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے یہ بات معروف ماہرِ ماحولیات اور سماجی رہنما شاہدہ کوثر فاروق، چیئرپرسن “صبحِ نو”، سے ملاقات کے دوران کہی، جنہوں نے ملاقات کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹے اور پانی کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے دوہرا چیلنج بن چکی ہے۔
ایک طرف ملک سیلابوں اور بے وقت شدید بارشوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب بار بار آنے والی خشک سالی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔میاں ریاض حسین پیرزادہ نے شاہدہ فاروق کی جانب سے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (رین واٹر ہارویسٹنگ) کے نظام کے فروغ کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پانی کے انتظام کے لیے جدید، پائیدار اور مثر طریقہ کار اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے دانشمندانہ استعمال کے ساتھ ساتھ آبی وسائل کے تحفظ اور زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بحال کرنے کی کوششوں میں بھی تیزی لانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے کہا، ہم وزارتِ ہاسنگ اینڈ ورکس کے زیر انتظام بڑی عمارتوں کی چھتوں کو بارش کا پانی محفوظ کرنے کے لیے استعمال کریں گے، جن میں وفاقی سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری عمارتیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

