اسلام آباد (سب نیوز)فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے مقدمہ نمبر 16/2026 میں مطلوب مرکزی ایجنٹ شبیر حسین کو جلال پور بھٹیاں، ضلع حافظ آباد جبکہ اس کے قریبی ساتھی اور مبینہ سب ایجنٹ غلام عباس کو چک نمبر 326/15-L، تحصیل میاں چنوں، ضلع خانیوال سے گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں ملزمان پر الزام ہے کہ وہ مالی طور پر کمزور اور مستحق افراد کو معمولی معاوضے کا لالچ دے کر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ نیٹ ورک کے لیے ڈونرز کا انتظام کرتے تھے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایف آئی اے نے اسی مقدمے میں قبل ازیں اسلام آباد میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر نادر اور اس کی ٹیم کو مبینہ طور پر غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹ میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا تھا، جن کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی اے کی جاری تحقیقات کے مطابق اب تک حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نادر مبینہ طور پر تقریبا 187 غیر قانونی انسانی گردہ ٹرانسپلانٹس میں ملوث رہا ہے، جن کے مختلف پہلووں پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس منظم نیٹ ورک کے ذریعے ہر گردہ ٹرانسپلانٹ کے عوض ریسیپینٹس سے 60 لاکھ روپے جبکہ بعض کیسز میں ایک کروڑ روپے تک وصول کیے جاتے تھے، جبکہ گردہ عطیہ کرنے والے غریب، نادار اور مالی مشکلات کا شکار افراد کو محض چند لاکھ روپے ادا کر کے باقی خطیر رقم نیٹ ورک کے مختلف ارکان میں تقسیم کر لی جاتی تھی۔ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار مرکزی ایجنٹ شبیر حسین اپنے ماتحت سب ایجنٹس کے ذریعے پنجاب اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں، خصوصا بھٹہ خشت کے مزدوروں، دیہاڑی دار افراد اور دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو معمولی مالی لالچ دے کر گردہ عطیہ کرنے پر آمادہ کرتا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق اب تک سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ وہ مبینہ طور پر 50 سے زائد گردہ ڈونرز ڈاکٹر نادر کو فراہم کر چکا تھا۔مزید تحقیقات کے دوران یہ اہم انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اس غیر قانونی نیٹ ورک کے ذریعے انسانی اعضا کی پیوندکاری سے متعلق سرکاری ادارہ ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا)سے مبینہ طور پر جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی دستاویزات کے ذریعے منظوری حاصل کی جاتی رہی، جبکہ متعلقہ ایویلیوایشن کمیٹی کی قانونی منظوری سرے سے موجود نہیں تھی۔
ایف آئی اے اس پہلو کی بھی تفصیلی تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اس فراڈ میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے مطابق گرفتار کیا جا سکے۔ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر نادر کا مبینہ نیٹ ورک صرف پاکستانی شہریوں تک محدود نہیں تھا بلکہ افغان، چینی اور سعودی شہریوں کے گردہ ٹرانسپلانٹس میں بھی ملوث رہا ہے۔ اس حوالے سے غیر ملکی مریضوں کے ریکارڈ، مالی لین دین اور دیگر شواہد کا فرانزک اور قانونی تجزیہ جاری ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ گرفتار مرکزی ملزم شبیر حسین کے خلاف ماضی میں بھی ایف آئی اے کے مختلف سرکلز میں متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں، تاہم وہ ہر مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ موجودہ کارروائی میں ایف آئی اے نے پہلی مرتبہ اسے گرفتار کر کے اپنی تحویل میں لیا ہے، جسے غیر قانونی انسانی اعضا کی خرید و فروخت کے خلاف جاری قومی مہم میں ایک اہم سنگِ میل اور بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تفتیشی حکام کا ماننا ہے کہ اس کی گرفتاری سے اس منظم نیٹ ورک کے مزید اہم کرداروں، سہولت کاروں اور مالی معاونین تک رسائی میں مدد ملے گی۔ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت اور غیر قانونی گردہ ٹرانسپلانٹ جیسے گھناونے جرائم میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ادارہ اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اس نیٹ ورک کے تمام ایجنٹس، سہولت کاروں، مالی معاونین اور دیگر شریک ملزمان کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام اٹھایا جائے گا اور اس ناسور کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گء .

