Monday, June 1, 2026
spot_img
spot_imgspot_img
ہومکالم وبلاگزنام نہاد جمہوریت اور گلگت بلتستان انتخابات

نام نہاد جمہوریت اور گلگت بلتستان انتخابات

تحریر: ابرار حسین استوری (صحافی، کالم نگار، سپریم کورٹ رپورٹر)

آئینِ پاکستان اور صحافت کے بنیادی اصول ہمیں ایک ہی سبق سکھاتے ہیں حق بات کہنا چاہے وہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ ایک صحافی کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اپنے مفادات کیلئے قانون کو موم کی ناک بنا رہے ہوں اور مظلوم کی آواز دبائی جا رہی ہو۔ میں نہ تو کسی سیاسی جماعت کا پٹواری ہوں نہ جیالا اور نہ ہی یوتھیا میرا تعلق صرف اور صرف صحافت سے ہے اور میں بلاخوف و خطر سچ کی وکالت کرتا ہوں۔ جہاں ظلم ہوگا، میرا قلم اور میری زبان وہاں خاموش نہیں رہ سکتے۔

اگر گلگت بلتستان کے موجودہ انتخابی منظرنامے پر نظر دوڑائیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ خطے میں جاری انتخابی عمل مکمل طور پر متنازعہ شکل اختیار کر چکا ہے اور اس بگاڑ کی سب سے بڑی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان، موجودہ نگران وزیر اعلیٰ اور نگران حکومت پر عائد ہوتی ہے، جو غیر جانبداری کا لبادہ اوڑھ کر یکطرفہ کھیل کا حصہ بن چکے ہیں۔

وفاق کے بعد اگر لیول پلیئنگ فیلڈ کا جنازہ نکلتے دیکھنا ہو تو ان دنوں گلگت بلتستان کا رخ کریں۔ اگر آپ کو گلگت بلتستان کے انتخابات کی اصل حقیقت جاننی ہے، تو تعصب کا چشمہ اتار کر دیکھنا ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو یہاں کھلی آزادی حاصل ہے، جبکہ پی ٹی آئی سے الیکشن لڑنے کا بنیادی جمہوری حق یعنی لیول پلیئنگ فیلڈ تک چھین لی گئی ہے۔ وفاق کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہاں بھی تحریک انصاف کو ان کے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا اور پھر وہی پرانا ڈراما رچایا گیا کہ انہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کروائے، جبکہ دوسری طرف دیگر سیاسی جماعتوں سے پوچھنے کی جسارت بھی الیکشن کمیشن نہیں کر پاتا۔

ستم ظریفی کی حد تو تب ہوئی جب پی ٹی آئی نے متبادل کے طور پر اسی سال الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ایک نئی جماعت گلگت بلتستان ڈیموکریٹک پارٹی سے الحاق کا اعلان کیا۔ اس اتحاد کے بعد صوبائی صدر پی ٹی آئی خالد خورشید نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں اڈیالہ جیل کے ایک مصنوعی پس منظر کے ساتھ گھوڑے پر سوار عمران خان کو دکھایا گیا تھا۔ اس سیاسی اتحاد کے بنتے ہی محض بارہ گھنٹوں کے اندر خاموش کردار حرکت میں آئے اور اس چھوٹی سی جماعت سے بھی ان کا انتخابی نشان ‘پولو مین (گھوڑا سوار) واپس لے لیا گیا۔ بات صرف نشان چھیننے تک محدود نہیں رہی بلکہ اس جماعت کے سربراہ جو خود بطور امیدوار الیکشن میں حصہ لے رہے تھے انہیں مبینہ دباؤ اور خوف کا نشانہ بنا کر انتخابی دوڑ سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا یعنی بالکل وہی کہانی دہرائی گئی جو ملک کے عام انتخابات میں لاہور سے تحریک انصاف نظریاتی کے ساتھ دہرائی گئی تھی۔

جمہوریت کے بھیس میں چھپے ڈکٹیٹر مائنڈ سیٹ کے سیاست دان ہوں یا اداروں میں موجود نام نہاد آئینی سربراہ سب نے وہ کچھ کیا جس کی ماضی میں مثال ملتی ہے اور نہ مستقبل میں کوئی گنجائش ہونی چاہیے۔ اس ساری صورتحال میں الیکشن کمیشن کا دہرا معیار بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ کچھ دن قبل الیکشن کمیشن کے زیرِ اہتمام گلگت الیکشن کمیشن آفس میں ایک آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ ضابطے کے مطابق اس میں تمام رجسٹرڈ جماعتوں کو مدعو کیا جانا چاہیے تھا لیکن یہاں بھی امتیازی سلوک برتا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے وہاں موجود تھے اور سب کو پورے پروٹوکول کے ساتھ شرکت کی اجازت ملی لیکن پھر وہی ہوا جو گزشتہ ڈھائی سالوں سے ملک بھر میں ہو رہا ہے تحریک انصاف کے وفد کو نہ صرف شرکت سے روکا گیا بلکہ پولیس فورس کا استعمال کر کے ان کیلئے کانفرنس ہال کے دروازے بند کر دیے گئے۔

دوسری طرف انتخابات کی کمپئن کیلئے وفاق میں بیٹھی حکمران جماعتوں کے درجنوں قائدین، وفاق وزراء اور ممبرانِ اسمبلی گلگت بلتستان کا رخ کر چکے ہیں۔ وہ کھلم کھلا الیکشن مہم چلا رہے ہیں، پے در پے جلسے اور جوڑ توڑ کر رہے ہیں اور ہوائی منصوبوں کے ایسے جعلی اعلانات کر رہے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن افسوس الیکشن کمیشن کو اس وقت اپنا ضابطہ اخلاق یاد نہیں آتا۔ ان کا سارا قانون اور ضابطہ اخلاق صرف پی ٹی آئی کے لیے مخصوص نظر آتا ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور صدر خیبرپختونخوا جنید اکبر کی صرف گلگت آمد سے ہی انتظامیہ پر اس قدر خوف طاری ہوا کہ انہیں ان کے ساتھیوں سمیت فی الفور این او سی کا بہانہ بنا کر ضلع بدر کر دیا گیا۔

نام نہاد جمہوریت میں چھپی آمریت کی سوچ رکھنے والے ان حکمرانوں نے ظلم اور جبر کے وہ پہاڑ توڑے ہیں جن کی آنے والے وقتوں میں شاید ہی کوئی مثال ملے۔ یہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا وہ بدترین دور ہے جہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر آمریت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جب ریاست خود فریق بن جائے اور الیکشن کمیشن کسی ایک لاڈلے یا مخصوص جماعت کو جتانے کے لیے باقی سب کے ہاتھ پیر باندھ دے تو ان انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگنا لازمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب گلگت بلتستان کے انتخابات میں پی ٹی آئی کا سلوگن ظلم کا بدلہ ووٹ سے کافی مقبول ہو رہا ہے۔ حقوق سے محروم گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں احساسِ محرومی مزید بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ ایک ووٹ ہی تو وہ طاقت تھی جس سے وہ نظام بدل سکتے تھے، مگر وہ طاقت بھی اب پولیٹیکل انجینئرنگ یا پھر فارم 47 کی کہانی میں ڈھلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔

حق اور باطل میں فرق تلاش کرنا، ظالم کے خلاف کھڑے ہونا اور مظلوم کا ساتھ دین لا یہی درسِ کربلا ہے۔ آج بھی جہان میں حق کے لیے اپنی گردن کٹانے والے امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء زندہ باد ہیں، جبکہ جھوٹ، فریب اور باطل کی وہ سوچ جس نے ظلم کے پہاڑ گرائے وہ یزید مردہ باد ہے۔

میں ایک صحافی کی حیثیت سے یہ تحریر اس لیے لکھ رہا ہوں کیونکہ تاریخ جب گلگت بلتستان کے ان انتخابات کا احوال لکھے گی، تو اس میں نگران حکومت کی جانبداری اور الیکشن کمیشن کی نااہلی سیاہ حروف سے لکھی جائے گی۔ میرا قلم کسی سیاسی ایجنڈے کا پابند نہیں، یہ صرف مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا کیونکہ یہی سچی صحافت کا خاصہ اور حسن ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔