اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ، سفیر محمد صادق نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ سلسلہ سوویت یونین کی افغانستان آمد سے بھی پہلے سے جاری ہے، تاہم وقت کے ساتھ یہ مزید منظم اور خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔
آئی ایس پی آر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک خصوصی ورکشاپ میں ملک بھر کی دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز سے خطاب کرتے ہوئے ایمبیسیڈر محمد صادق نے کہا کہ ماضی میں افغانستان میں دہشت گردی زیادہ تر قوم پرستانہ نوعیت کی تھی، مگر اب یہ خوارجی نظریے میں تبدیل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوارجی عناصر اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو غیر مسلم تصور کرتے ہیں اور صرف خود کو “حقیقی مسلمان” قرار دیتے ہیں، جو انتہاپسندانہ سوچ کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔
ایمبیسیڈر محمد صادق نے کہا کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل افغانستان کی صورتحال نسبتاً بہتر تھی، مگر گزشتہ پانچ برسوں میں ملک دوبارہ دو دہائیاں پیچھے چلا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں تعلیم پر مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ 20 ہزار سے زائد مدارس قائم کیے گئے ہیں جہاں “فدائی تعلیم” کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان قیادت نے اپنے لیے الگ قانونی نظام متعارف کر رکھا ہے، جہاں انہیں کسی عدالت میں طلب نہیں کیا جا سکتا، جبکہ عام افغان شہریوں کو سرِ عام کوڑوں کی سزائیں دی جاتی ہیں۔
ایمبیسیڈر محمد صادق کے مطابق افغانستان دنیا میں منشیات پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور سالانہ 5 سے 6 ارب ڈالر کی آمدن منشیات سے حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس کی مالی معاونت بڑی حد تک منشیات کی اسمگلنگ سے ہوتی ہے، اور اگر اس نیٹ ورک کو مؤثر انداز میں روکا جائے تو دہشت گردی کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔
