اسلام آباد (آئی پی ایس )اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم اپنے پہلے سرکاری دورے پرپاکستان پہنچ گئے۔ حکام کے مطابق وہ حکومت پاکستان کی دعوت پر ایک ہفتہ ملک میں قیام کریں گے۔سرکاری ذرائع کے مطابق پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے اسلام آباد میں آصف علی زرداری سے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان میں اسماعیلی برادری کی فلاحی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اپنے دورے کے دوران آغا خان پنجم گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے، جہاں وہ عوامی اجتماعات، مذہبی تقریبات اور کمیونٹی پروگرامز میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔انتظامیہ کے مطابق ہنزہ میں واقع پاسو کونز، گلگت شہر، گاہکوچ بالا، تاس یاسین اور اشکومن سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ بعض مقامات پر رش کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سے زائد سیشنز رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔واضح رہے کہ پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے 11 فروری 2025 کو ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کے والد 4 فروری 2025 کو انتقال کر گئے تھے۔ دورے کے پیش نظر وفاقی اور علاقائی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت نے مہمان شخصیت کو ریاستی پروٹوکول دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیکیورٹی اور سفری انتظامات کے لیے وفاقی حکومت سے بلٹ پروف گاڑی فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔حکام کے مطابق قراقرم ہائی وے پر ناصر آباد پل سے سوست ڈرائی پورٹ تک خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پولیس اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو سڑکوں کی بحالی، ٹریفک مینجمنٹ اور سیکیورٹی کی خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔انتظامیہ نے بابوسر روڈ کو متبادل راستے کے طور پر کھولنے کی سفارش بھی کی ہے، جبکہ اپر ہنزہ اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اضافی ٹرانسپورٹ اور سفری اوقات میں ردوبدل کے اقدامات بھی زیر غور ہیں تاکہ شہریوں اور زائرین کو آمد و رفت میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
