Tuesday, May 19, 2026
ہومپاکستانچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بنگلہ دیشی وفدکی ملاقات ، پارلیمانی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر زور

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بنگلہ دیشی وفدکی ملاقات ، پارلیمانی اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر زور

اسلام آباد(آئی پی ایس )چیئرمین سینیٹ پاکستان، سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان۔بنگلہ دیش نالج کوریڈور کے تحت پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد میں منعقدہ ملاقات کے دوران بنگلہ دیش سے آئے ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ پروگرام کے افسران اور شرکا کا پرتپاک استقبال کیا۔وفد سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان، بنگلہ دیش کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ مسلسل روابط، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی سطح پر روابط باہمی اعتماد، علاقائی ہم آہنگی اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں۔انہوں نے سول سروسز اکیڈمی اور شراکت دار اداروں کی جانب سے اس تبادلہ پروگرام کے انعقاد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ تعاون اور انتظامی استعداد میں اضافے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بنگلہ دیشی وفد کی قیادت ایک خاتون افسر کر رہی ہیں، جسے انہوں نے خواتین کے بااختیار ہونے اور عوامی انتظامیہ میں شمولیتی طرزِ حکمرانی کی مثبت مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ قومی ترقی اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی پوری سیاسی زندگی میں انہوں نے خواتین قیادت کی حوصلہ افزائی کی اور بطور وزیر اعظم پاکستان اور اب بطور چیئرمین سینیٹ خواتین افسران کو اہم انتظامی ذمہ داریاں سونپتے رہے ہیں۔

پارلیمانی تعاون کے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کا ذکر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش امن، استحکام، معاشی ترقی اور جمہوری استحکام کے مشترکہ مقاصد رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی جانب سے دو ایوانی پارلیمانی نظام کی جانب پیش رفت میں دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے پارلیمانی تجربات اور ادارہ جاتی مہارت کو شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز (پی آئی پی ایس)کے صدر کی حیثیت سے چیئرمین سینیٹ نے بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ پارلیمانی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے جاتیہ سنگساد کے افسران کے لیے پی آئی پی ایس میں تربیتی اور استعداد کار بڑھانے کے پروگرامز کے امکان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بین الپارلیمانی تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جدید نظامِ حکمرانی کو معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی دبا اور عوامی توقعات میں اضافے جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے جوابدہ اداروں، آئینی توازن، شفافیت اور پارلیمنٹ، انتظامیہ اور سول سروسز کے درمیان مثر ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی، نگرانی اور احتساب کے ذریعے عوامی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہے، جبکہ انتظامیہ پالیسی سازی کی سمت متعین کرتی ہے اور سول سروسز تسلسل اور موثر خدمات کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں۔ ان کے مطابق مثر حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب تمام ریاستی ادارے مشترکہ مقصد اور باہمی اعتماد کے ساتھ کام کریں۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج کے سول سرونٹس کو صرف انتظامی امور تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق جدت اور موافقت بھی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے تبادلہ پروگرامز سیکھنے، پیشہ ورانہ روابط اور خطے کے سرکاری افسران کے درمیان طویل المدتی باہمی تفہیم کے قیمتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔علاقائی روابط کی اہمیت کو دہراتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش بے پناہ انسانی صلاحیتوں کے حامل ممالک ہیں اور مکالمے، تعاون اور مسلسل روابط کے ذریعے علاقائی استحکام اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے وفد کو پاکستان کی آئینی ترقی اور وفاق کی علامت کے طور پر سینیٹ کے کردار سے بھی آگاہ کیا، جو وفاقی اکائیوں کو مساوی نمائندگی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کو پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی تشکیل اور مضبوطی میں اہم قرار دیتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے وفد کو یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان کی تاریخ میں واحد سیاستدان ہیں جنہیں ملک کے تمام اہم آئینی عہدوں پر خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بنگلہ دیش کے ساتھ اپنی ذاتی وابستگی اور خاندانی ورثے کے بعض پہلووں کا بھی ذکر کیا۔چیئرمین سینیٹ نے انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس (آئی ایس سی)کا بھی ذکر کیا، جس کے وہ بانی چیئرمین ہیں۔ انہوں نیامن، سلامتی اور ترقیکے موضوع کو موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون، عوامی روابط اور وفود کے تبادلوں میں اضافے پر زور دیا۔ملاقات کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ نے دورہ کرنے والے وفد کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی ہم آہنگی، ادارہ جاتی روابط اور دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا،پاکستان۔بنگلہ دیش دوستی زندہ باد۔وفد نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے بصیرت افروز خطاب اور ملاقات کو سراہا اور دورے کے دوران فراہم کیے گئے تعاون پر اظہارِ تشکر کیا۔ وفد نے ان کے وسیع پارلیمانی اور انتظامی تجربے سے استفادہ کو نہایت مفید قرار دیا۔ اس موقع پر مشیر برائے چیئرمین سینیٹ و سفیر بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس مصباح کھر، پرنسپل سیکرٹری ٹو چیئرمین سینیٹ ربیعہ انوار، سینئر ڈائریکٹر جنرل پروٹوکول طارق بن وحید بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔