اسلام آباد(سٹی رپورٹر)پاکستان کے قدیم گندھارا تہذیب کے بدھ مت کے ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے “بدھ مت کے ورثے پر ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام تیسری پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس” 19 سے 23 مئی 2026 تک اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ اس بین الاقوامی تقریب میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے 36 سے زائد ممتاز اسکالرز، محققین، پالیسی ساز اور ماہرین شرکت کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد گندھارا خطے کے بدھ مت کے شاندار ورثے کو فروغ دینا، اس پر تحقیق کو آگے بڑھانا اور عالمی سطح پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔ اس بات کا اعلان کانفرنس کے منتظمین ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر غنی الرحمن، قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا
ان کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس میں ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور، سری لنکا، چین، امریکہ، برطانیہ، اٹلی، ایران اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں شرکت کرنے والے نمایاں مقررین میں پروفیسر گھونگ سینگ کوہ، پروفیسر شو شینگ لیانگ، پروفیسر لی این، ڈاکٹر ایسٹر بیانکی، ڈاکٹر جوزف بالمس، ڈاکٹر کیتھ ایچ، ڈاکٹر ساجد اعوان، پروفیسر شاکر اللہ، ڈاکٹر زبیدہ یوسف، ڈاکٹر الیاس بھٹی، ڈاکٹر عبد الحمید اور ڈاکٹر محمد تیماس خان شامل ہیں۔ کانفرنس کا آغاز 18 مئی 2026 کو اسلام آباد، سوات، ٹیکسلا اور پشاور میں پری کانفرنس سرگرمیوں سے ہوگا۔ 19 اور 20 مئی کو قائداعظم یونیورسٹی میں “پاکستان کے بدھ مت کے ورثے پر تحقیقی مطالعہ” کے عنوان سے مرکزی کانفرنس منعقد ہوگی، جس میں کلیدی خطابات، علمی مقالے اور پینل ڈسکشنز شامل ہوں گی۔ 21 سے 23 مئی تک شرکا بدھ مت کے تاریخی مقامات کے دورے بھی کریں گے۔ ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر غنی الرحمن کے مطابق یہ کانفرنس مارچ 2022 میں شروع ہونے والے سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو کانفرنسز 2022 اور 2024 میں منعقد ہو چکی ہیں اور اب 2026 میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی نے انسٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سیولائزیشنز اور سلک روڈ سینٹر کے اشتراک سے اس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے تاکہ پاکستان کے بدھ مت کے ورثے کے تحفظ، تحقیق اور فروغ میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔
