اسلام آباد (سب نیوز)نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی عام سفارت کاری سے کہیں بڑھ کر ہے، اور اسے ایک ایسا تعلق قرار دیا جو وقت کی آزمائش سے گزرا اور باہمی اعتماد سے مزید مضبوط ہوا۔اسلام آباد میں پاکستان ڈیجیٹل اکنامک سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھرتا ہوا پاکستان-چین ڈیجیٹل کوریڈور نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ وسیع تر گلوبل ساتھ کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں نے دونوں ممالک کے درمیان فائبر کنیکٹیویٹی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے ایک حقیقی ڈیجیٹل کوریڈور قائم کرنے میں مدد ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین اب سڑکوں سے نیٹ ورکس کی طرف، اور جسمانی انفراسٹرکچر سے ڈیجیٹل آرکیٹیکچر کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔اسحاق ڈار نے پاکستان ڈیجیٹل اکنامک سینٹر کے آغاز کو جدت، ڈیجیٹل روابط، اور مستقبل کی معیشت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون ڈیجیٹل دور میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ سال ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ متعارف کرایا تاکہ ملک کو ایک ڈیجیٹل معاشرے، معیشت، اور طرزِ حکمرانی میں تبدیل کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی صنعتوں کی ڈیجیٹلائزیشن ملک کی جی ڈی پی میں پانچ سے سات فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے، جس سے 2030 تک معیشت میں 20 سے 30 ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔شزہ فاطمہ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین اور 15 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں۔دریں اثنا، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت پاکستان کو برآمدات پر مبنی، صنعتی طور پر مسابقتی، اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے گہرے ساختی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔
