Tuesday, May 12, 2026
ہومپاکستانپاکستان اور چینی کمپنیوں میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ، ویکسین تعاون کی 10ایم او یوز پر دستخط

پاکستان اور چینی کمپنیوں میں اے پی آئی مینوفیکچرنگ، ویکسین تعاون کی 10ایم او یوز پر دستخط

اسلام آباد(آئی پی ایس )پاکستان کے فارماسیوٹیکل شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، ویکسین تعاون، اور فارما سرمایہ کاری کے حوالے سے 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جو پاکستان میں فارماسیوٹیکل خود کفالت، مقامی مینوفیکچرنگ، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفی کمال نے بطور مہمان خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت اور ہیلتھ کیئر سیکٹر کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، خصوصا خام مال کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے یہ پیش رفت انتہائی انقلابی اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن ہے جس کا پاکستان برسوں سے انتظار کر رہا تھا، کیونکہ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں حقیقی خود کفالت صرف ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اے پی آئی کی مقامی پروڈکشن کا آغاز ادویات کی قیمتوں، دستیابی، اور سپلائی چین کے استحکام پر مثبت اثر ڈالے گا۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ اگرچہ کانفرنس میں 10 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، تاہم دو معاہدے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، جن میں فارماسیوٹیکل خام مال کی مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، اور پولٹری ویکسین مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 51 ممالک کو ادویات برآمد کر رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والا زیادہ تر خام مال بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے، جس سے زرمبادلہ پر دبا بڑھتا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اس وقت تقریبا 4.5 ملین ڈالر مالیت کی پولٹری ویکسین درآمد کرتا ہے، جبکہ ویکسین کے شعبے میں بیرونی انحصار ایک اہم قومی چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 13 بیماریوں سے بچا کے حفاظتی ٹیکے بچوں کو مفت فراہم کر رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر 2030 تک حفاظتی ٹیکہ جات کی معاونت میں تبدیلی متوقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو یہ ویکسین اپنی مالی وسائل سے خریدنا ہوں گی، جس کے لیے سالانہ تقریبا 1.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ 2030 سے پہلے پاکستان میں ویکسین کی مقامی پیداوار یقینی بنائی جائے تاکہ بیرونی انحصار ختم کیا جا سکے۔کورونا وبا کا حوالہ دیتے ہوئے سید مصطفی کمال نے کہا کہ ویکسین نے لاکھوں جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مستقبل میں کینسر سمیت دیگر بیماریوں کے علاج میں بھی ویکسین اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ جامع قومی ویکسین پالیسی تشکیل دے کر وفاقی کابینہ سے منظور کرائی گئی ہے، جبکہ قومی ادارہ صحت کو ویکسین سازی اور متعلقہ ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے فعال بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ چند ماہ میں عالمی ادار صحت کے لیول 3 سرٹیفکیشن کے حصول کی کوشش کر رہا ہے، جس کے بعد پاکستانی ادویات کی برآمدات 51 ممالک سے بڑھ کر 150 سے زائد عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے قومی صحت کے وسیع تر چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا 62 لاکھ افراد آبادی میں شامل ہو رہے ہیں، جس سے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، اور روزگار کے شعبوں پر شدید دبا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی آبادی ایک سنگین قومی چیلنج بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریبا 11 ہزار مائیں حمل یا زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے اور احتیاطی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی، جنہوں نے اس چینی سرمایہ کاری کو پاکستان لانے اور سرمایہ کاروں سے رابطوں میں ذاتی طور پر فعال کردار ادا کیا، نے کہا کہ یہ پیش رفت حکومت کی صنعتی ترقی، بین الاقوامی شراکت داری، اور عملی معاشی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فارماسیوٹیکل تجارتی ڈھانچے کے جائزے سے واضح ہوا کہ ادویات اور خام مال کے لیے بیرونی انحصار قومی زرمبادلہ اور درآمدی بل پر مسلسل دبا ڈال رہا ہے، اسی لیے مقامی پیداوار، غیر ملکی سرمایہ کاری، اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر ناگزیر تھے۔انہوں نے تمام سرمایہ کاروں، اداروں، اور شراکت داروں کو اس اہم پیش رفت پر مبارکباد دی۔اسلام آباد کے موون پک ہوٹل میں منعقدہ اس اعلی سطحی تقریب کا انعقاد وزارت قومی صحت، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، ون اسٹیشن چائنا ڈیسک ، اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی کے دفتر کے اشتراک سے کیا گیا۔تقریب میں پاکستانی اور چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے درمیان 10 اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو پاک-چین صنعتی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔نمایاں معاہدوں میں یونی کیم فارماسیوٹیکلز پاکستان اور چین کے Xinxu گروپ کے درمیان تقریبا 10 ارب روپے کی سرمایہ کاری پر مبنی منصوبہ شامل ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی ٹرانسفر کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔اس منصوبے کے تحت اومیپرازول اے پی آئی کی مقامی تیاری ممکن ہو گی، جس کا تقریبا 95 فیصد خام مال پہلے بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا تھا، جس سے درآمدی انحصار کم ہوگا اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔اسی طرح لکی کور گروپ اور چینی شراکت داروں کے درمیان بھی اہم تعاون طے پایا۔مفاہمتی یادداشتوں پر یونی کیم فارماسیوٹیکلز کے سی ای او مسٹر حمید، Xinxu گروپ کے سی ای او مسٹر ہا، چینی جانب سے گونگ یون (عالیہ)، اور لکی کور گروپ کی جانب سے مسٹر صبور نے دستخط کیے، جبکہ وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال اور پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی نے اس موقع پر دستخطی تقریب کا مشاہدہ کیا۔تقریب سے ون اسٹیشن چائنا ڈیسک، چینی فارما کمپنیوں، اور پاکستانی صنعت کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، فارما مارکیٹ کی وسعت، اور پاک-چین صنعتی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی، جس میں پاکستان میں فارما سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مقامی مینوفیکچرنگ، اور صحت کے شعبے میں خود کفالت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔