Thursday, May 7, 2026
ہومبریکنگ نیوزپی اے سی اجلاس میں ایف جی ای ایچ اے کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پی اے سی اجلاس میں ایف جی ای ایچ اے کے منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں وفاقی گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کے مختلف ہاؤسنگ منصوبوں میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں، تاخیر اور ناقص منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے۔ اجلاس کی صدارت شاہدہ اختر نے کی جبکہ آڈٹ حکام اور وزارتِ ہاؤسنگ کے افسران نے بریفنگ دی۔


آڈٹ بریف کے مطابق مارگلہ آرچرڈ پارک روڈ اسلام آباد ہاؤسنگ منصوبے میں مکمل زمین پر قبضہ حاصل کیے بغیر 4 ارب 77 کروڑ 49 لاکھ روپے کا ٹھیکہ جاری کیا گیا جبکہ منصوبے پر 81 کروڑ 79 لاکھ روپے سے زائد ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اپریل 2023 میں شروع ہونے والے منصوبے پر دسمبر 2023 تک صرف 4.87 فیصد پیش رفت ہوسکی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایف جی ای ایچ اے نے منصوبے کیلئے 4500 کنال زمین حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم حقیقت میں صرف 1047 کنال زمین پر قبضہ حاصل تھا، جس کے باعث متعدد حصوں پر کام رک گیا۔ آڈیٹر جنرل حکام نے کہا کہ مکمل سائٹ ٹھیکیدار کے حوالے نہ ہونے سے تعمیراتی کام شدید متاثر ہوا جبکہ گیٹ، گارڈ روم اور باؤنڈری وال سمیت کئی حصے زمین کے تنازعات کے باعث تاخیر کا شکار رہے۔


سیکریٹری ہاؤسنگ نے کمیٹی کو بتایا کہ اب 90 فیصد زمین پر قبضہ حاصل کرلیا گیا ہے اور منصوبے پر مجموعی پیش رفت 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل کر لیا جائے گا۔


اجلاس کے دوران معین پیرزادہ نے کہا کہ اصل فراڈ اس شخص نے کیا جس نے بورڈ کو زمین کے قبضے سے متعلق غلط معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے زمین کے قبضے پر جھوٹ بولا گیا اور بعد میں جعلی گارنٹی بنوائی گئی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف آئی اے کو معاملے کی ازسرنو تحقیقات کی ہدایت بھی جاری کردی۔


اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایف جی ای ایچ اے کا اسلام آباد میں کوئی بھی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوسکا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ ہاؤسنگ کے ماتحت ادارے کو مختلف منصوبوں میں تاخیر کے باعث 9 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا جبکہ 11 منصوبوں کی مجموعی لاگت 92 ارب 40 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ معاہدوں کے مطابق منصوبوں میں تاخیر پر روزانہ 0.1 فیصد جرمانہ عائد ہونا تھا جبکہ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد منصوبے کی لاگت کا 10 فیصد مقرر تھی، مگر کسی بھی ٹھیکیدار سے جرمانہ وصول نہیں کیا گیا۔


سیکریٹری ہاؤسنگ نے اعتراف کیا کہ تقریباً تمام منصوبے تاخیر اور لاگت میں اضافے کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا، فیول بحران اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث منصوبوں پر اثر پڑا تاہم رکے ہوئے تین منصوبے دوبارہ شروع کرا دیے گئے ہیں اور زیادہ تر منصوبوں کو ٹریک پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں شازیہ مری نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کورونا اور فیول قیمتوں کو بہانہ بنایا جارہا ہے جبکہ اصل مسئلہ ادارے کی نااہلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سی ڈی اے پورے علاقے خالی کرا دیتی ہے جبکہ دوسری طرف ایف جی ای ایچ اے سے ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں ہو رہا۔
سینیٹر بلال خان نے سوال اٹھایا کہ جن الاٹیز نے پیسے جمع کرائے تھے اگر منصوبے مکمل نہ ہوئے تو کیا انہیں موجودہ ریٹ کے مطابق رقم واپس کی جائے گی؟ اس پر سیکریٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ کئی افراد اپنی رقوم واپس لے چکے ہیں۔


ڈی جی ایف جی ای ایچ اے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ 10 مئی تک ساڑھے تین ہزار کنال زمین کا قبضہ حاصل کر لیا جائے گا۔ سیکریٹری ہاؤسنگ نے مزید کہا کہ نئے منصوبوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور پہلے پرانے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔


پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف جی ای ایچ اے کو تمام زیر التوا منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر منصوبے مکمل نہ ہوسکے تو الاٹیز کو ان کی رقوم واپس کی جائیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔