اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ، سی ڈی اے مزدور یونین، پاکستان ورکرز فیڈریشن اور راولپنڈی/اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام یومِ مئی کے حوالے سے مرکزی تقریب نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر طارق فضل چوہدری تھے،تقریب میں پاکستان مسلم لیگ قائداعظم کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر محمد امجد،ضلع اسلام آباد کے صدررضوان صادق،جنرل سیکرٹری چوہدری جہانگیر،سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین، پی ایف یو جے کے صدر محمد افضل بٹ، آر آئی یو جے کے صدر آصف بشیر چوہدری، سابق صدر طارق علی ورک، علی رضا علوی، عابد عباسی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے یاسر بٹ، ایف ای ایس کے پروگرام کوآرڈینیٹر عبداللہ دایو، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود، منیر حسین بٹ، شفقت وڑائچ، ملک شمیض، عمران ضیا، محمد سعید صحافی برادری کے عامر سجادسید، توصیف عباسی،اے ٹی وی یونین کے جنرل سیکرٹری صفدرنفیس، مزدور یونین کے چیئرمین راجہ شاکر زمان کیانی، سپریم ہیڈ مرزا سعید اختر، حاجی صابر،صوفی محمود علی، اظہر خان تنولی، اظہار عباسی، محمد سرفراز ملک، ملک عاصم، واجد گجر، سردار نسیم، زاہد بھٹی، چوہدری زاہد، وارث دلیپ، ملک دلشادسمیت راولپنڈی/اسلام آباد کی مزدور تنظیموں کے رہنماں، صحافی برادری کے نمائندوں اور سی ڈی اے کے محنت کشوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی اے مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری چوہدری محمد یسین،پی ایف یو جے کے صدر محمد افضل بٹ، آر آئی یو جے کے صدر آصف بشیر چوہدری، سابق صدر طارق علی ورک، علی رضا علوی و دیگر نے کہا کہ یومِ مئی تجدیدِ عہد کا دن ہے اور یہ دن شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے اپنے حقوق کے حصول اور اوقاتِ کار کے تعین کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی لیبر قوانین اور عالمی ادارہ محنت کے کنونشن موجود ہیں مگر ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو رہا۔انھوں نے کہا کہ سی ڈی اے ایک اہم وفاقی ادارہ ہے جس کی ترقی میں ملازمین کا کلیدی کردار ہے مگر حالیہ عرصے میں انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کے باعث مزدوروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خصوصا سینٹری ورکرز کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، ان سے جبری مشقت لی جا رہی ہے اور معاوضہ بھی نہیں ادا کیا جا رہا ہے، جبکہ حفاظتی اقدامات اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی میسر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے سے مزدور حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔سی ڈی اے مزدوریونین اور انتظامیہ کے درمیان معاہدوں پر عمل نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے مسلم و مسیحی ملازمین کا عید الانس آج بھی زیر التوا ہے جبکہ ملازمین کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ، پروموشنز، بچوں کی بھرتی اور رہائش سمیت کئی مسائل التوا کا شکار ہیں۔ میڈیا ورکرز کو بھی شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
صحافیوں کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری برطرفیوں، کنٹریکٹ سسٹم، جاب سیکیورٹی کے فقدان اور ویج بورڈ ایوارڈ پر عمل درآمد نہ ہونے جیسے مسائل درپیش ہیں۔ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو سیکیورٹی خطرات، ہراسانی اور دبا کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا ہاسز میں سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی ہے جس کی وجہ سے صحافی اور ان کے اہل خانہ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ فری لانس اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے حقوق کا بھی کوئی واضح نظام موجود نہیں۔اس موقع پر انھوں نے صدر مملکت، وزیرِ اعظم پاکستان،وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر برائے انسانی وسائل و سمندر پار پاکستانیز سے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری قانون سازی کی جائے، سماجی تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور متعلقہ اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ سی ڈی اے ملازمین کے مسائل فوری حل کیے جائیں خصوصا سینٹری ورکرز کے اوقاتِ کار کا تعین، حفاظتی سامان کی فراہمی اور خصوصی الانس کی منظوری دی جائے۔ مسیحی ملازمین کے لیے ایسٹر الانس کی فوری ادائیگی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ صحافیوں کے لیے ویج بورڈ ایوارڈ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائ
