Thursday, April 30, 2026
ہومبریکنگ نیوزنیب کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کے خلاف کرپشن الزامات پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا آغاز

نیب کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کے خلاف کرپشن الزامات پر ایف آئی اے کی تحقیقات کا آغاز

اسلام آباد: (سب نیوز) نیب کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر کے خلاف کرپشن اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے الزامات پر ایف آئی اے نے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں نیب کی سفارش پر کارروائی کی جا رہی ہے۔

سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب ضیاء اللہ طورو پر الزامات ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت میں 2013 سے 2016 تک ڈیپوٹیشن پر تعینات رہے، جہاں ان کے خلاف مختلف تھانوں میں 16 ایف آئی آر درج ہونے اور کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا ہونے کی بھی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ضیاء اللہ طورو پر دورانِ سروس اختیارات کے ناجائز استعمال، غیر قانونی اقدامات اور بعض کیسز میں ریکارڈ میں رد و بدل کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض تحقیقات کو متاثر کرنے اور کارروائیوں میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

مزید انکشافات میں کہا گیا ہے کہ ان کی سروس کے دوران اہم کیسز میں مبینہ طور پر غیر شفاف فیصلے کیے گئے جبکہ بعض معاملات میں جان بوجھ کر تاخیر اور اثرانداز ہونے کی کوشش بھی کی گئی۔

تاہم ضیاء اللہ طورو نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنا دفاعی مؤقف پیش کیا ہے، جو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

نیب ہیڈکوارٹر نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کیس کی مزید تحقیقات اور احتسابی عمل کو تیز کرنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا ہے اور مستقبل میں شفافیت کے لیے نئے اقدامات اور اصلاحات کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

ضیاء اللہ طورو سول سرونٹ گروپ کے افسر ہیں اور نیب میں بطور ڈیپوٹیشن خدمات انجام دیتے رہے ہیں، جبکہ اس وقت وہ ڈائریکٹر اردو سائنس کے عہدے پر تعینات ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔