Tuesday, April 28, 2026
ہومبریکنگ نیوزافغان طالبان کی جارحیت کے خلاف پاکستان کا دفاعی ردعمل، یوناما کے یکطرفہ مقف پر سوالات اٹھنے لگے

افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف پاکستان کا دفاعی ردعمل، یوناما کے یکطرفہ مقف پر سوالات اٹھنے لگے

کابل (آئی پی ایس )افغان طالبان حکومت نے یہ دعوی کیا ہے کہ پاکستان نے کنڑ میں سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی کو نشانہ بنایا، تاہم اس الزام کو پاکستان کی جانب سے بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ان دعوں کے بعد افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے بھی طالبان کے مقف کو بغیر آزاد تصدیق کے آگے بڑھاتے ہوئے مبینہ شہری ہلاکتوں کے بیانیے کو تقویت دی، جس پر پاکستان کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں کہ یہ رویہ یکطرفہ اور غیر متوازن ہے۔

پاکستانی مقف کے مطابق اگرچہ خطے میں کشیدگی کے باوجود فریقین کے درمیان بات چیت اور تحمل کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس کے باوجود افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار سے فائرنگ اور مارٹر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ان حملوں میں باجوڑ، جنوبی وزیرستان اور چمن کے علاقوں میں شہری آبادی متاثر ہوئی ہے، جبکہ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ذرائع کے مطابق 27 اپریل 2026 کو باجوڑ کے علاقے لغاری میں مارٹر گولہ گرنے سے ایک اسکول کا طالب علم زخمی ہوا، جبکہ 28 اپریل کو چمن کے علاقے محمد حسن گاں میں ایک رہائشی مکان پر مارٹر گولہ لگنے سے ایک شہری رفیع اللہ شہید اور نقیب اللہ شدید زخمی ہوا۔

اس کے علاوہ سالارزئی، چرمنگ اور جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی مارٹر شیلنگ سے شہریوں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان سرحد کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر توپ خانے، مارٹرز، مشین گنز اور سنائپر فائر سمیت مختلف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ بارڈر فینس توڑنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اسی دوران ٹی ٹی پی کے جنگجوں کی افغان سرزمین سے دراندازی کے واقعات کو بھی تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں مارے جانے والے بعض دہشتگردوں کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے، جس سے سرحد پار نیٹ ورک کے دعوں کو تقویت ملتی ہے۔پاکستانی موقف کے مطابق جب صورتحال بگڑتی ہے تو پاکستان صرف دفاعی ردعمل دیتا ہے اور صرف انہی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں سے حملے کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان بعض اوقات توپ خانے اور مارٹرز کو شہری آبادیوں کے قریب نصب کرتے ہیں، جس سے عام شہری خطرے میں آتے ہیں، اور بعد ازاں ان ہلاکتوں کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف بیانیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے یوناما کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ ادارہ واقعی زمینی حقائق کی آزادانہ تصدیق کرتا ہے یا محض ایک فریق کے بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے۔پاکستانی مقف کے مطابق افغانستان میں موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی اداروں کا کردار غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق تحمل اور دفاعی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جبکہ دوسری جانب سرحد پار سے دہشتگردی اور اشتعال انگیزی خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔