کراچی (آئی پی ایس )پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز مندی کا رجحان غالب رہا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس شدید فروخت کے دبا کے باعث تقریبا 1100 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔کاروباری دن کے آغاز پر مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس تیزی سے بڑھتے ہوئے 169,313 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جو ابتدائی خریداری کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور جلد ہی منافع خوری کے باعث مارکیٹ میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوگئی۔
دوپہر سے قبل ہی انڈیکس میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی اور یہ کم ہو کر 168,170.74 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور مضبوط مثبت عوامل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,085.12 پوائنٹس یعنی 0.64 فیصد کمی کے ساتھ 168,412.23 پوائنٹس پر بند ہوا۔ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ مندی کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں غیر متوقع اضافہ ہے۔
مرکزی بینک نے پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد کر دی تھی، جس کے بعد سرمایہ کاروں کی توقعات کے برعکس فیصلے نے مارکیٹ کو دبا میں ڈال دیا۔ماہرین کے مطابق مارکیٹ اس فیصلے کے اثرات کو جذب کرنے کے عمل سے گزر رہی ہے اور 11.5 فیصد شرح سود کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔
گزشتہ روز یعنی پیر کو بھی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھا اور مندی کا رجحان دیکھا گیا تھا، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,174.68 پوائنٹس یعنی 0.69 فیصد کمی کے ساتھ 169,497.36 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔دوسری جانب عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس ریکارڈ سطح کے قریب رہیں، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال، بڑی کمپنیوں کے مالی نتائج اور مختلف مرکزی بینکوں کے اجلاسوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
جاپان کا نکی انڈیکس 0.5 فیصد کمی کا شکار ہوا، جبکہ ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ اپنی بلند ترین سطح کے قریب رہا۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل میں تعطل بھی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
