Saturday, April 25, 2026
ہومبریکنگ نیوزحکومتی اداروں کے 70 اکا ئونٹس بند، 300 ارب خزانے میں منتقل کرنے کا فیصلہ

حکومتی اداروں کے 70 اکا ئونٹس بند، 300 ارب خزانے میں منتقل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومتی اداروں کے تقریبا 70 بینک اکاونٹس بند کرنے اور ان میں موجود لگ بھگ 300 ارب روپے قومی خزانے میں منتقل کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ اقدام کامقصد سرکاری مالی وسائل کو یکجاکرنااور قرضوں کی لاگت میں کمی لانا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ اقدام اسٹاف لیول معاہدے کاحصہ ہے جوگزشتہ ماہ طے پایا، اس سے قبل بھی 242 اکاونٹس بندکرکے تقریبا 200 ارب روپے ٹریژری سنگل اکاونٹ میں منتقل کیے جاچکے ہیں۔

وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر تقریبا 250 مزید نان سیونگ اکاونٹس بندکرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن میں تقریبا 400 ارب روپے موجودہیں، پہلے مرحلے میں وزارتوں اور ان سے منسلک محکموں کے 70 اکاونٹس بند کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف کاموقف رہاہے کہ مختلف سرکاری ادارے نجی بینکوں میں رقوم رکھ کرمنافع کماتے ہیں،جبکہ وہی رقم بعد ازاں حکومت کو زیادہ شرح سود پرقرض دی جاتی ہے، تاہم وزارت خزانہ نے خودمختار اداروں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیارکرتے ہوئے کہاہے کہ مکمل پابندی انکی مالی خودمختاری متاثرکرسکتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں وزارتیں اورڈویژنز اپنے سیونگ اکاونٹس بھی بندکرینگی، تاہم خودمختار اداروں کو جزوی استثنادیے جانے کاامکان ہے،خاص طور پر وہ ادارے جو وفاقی بجٹ سے فنڈز نہیں لیتے،ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی تشویش کااظہارکیا ہے کہ تقریبا 200 سرکاری ادارے اور ریگولیٹری باڈیز ایک کھرب روپے سے زائد رقم نجی اکاونٹس میں رکھے ہوئے ہیں، جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جون 2027 تک مقامی قرضوں کی اوسط مدت بڑھا کر چار سال دو ماہ کی جائے گی

، تاکہ ری فنانسنگ کے خطرات کم کیے جاسکیں، یہ مدت پروگرام کے آغاز پر ڈھائی سال کے قریب تھی جو اب بڑھ کر تقریبا ساڑھے تین سال ہوچکی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق حکومت مقامی قرضوں کے ڈھانچے کو مستحکم بنانے،سرمایہ کاروں کا دائرہ وسیع کرنے اور اسٹیٹ بینک کے پاس موجودقرض کو بتدریج کم کرنے کے اقدامات بھی جاری رکھے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔