اسلام آباد سے اویس لطیف کی رپورٹ

حالیہ عرصے میں دنیا کا سب سے بڑا سفارتی ایونٹ جیسے ہی اسلام اباد میں انعقاد پذیر ہونے جا رہا ہے اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں رازداری بھی بڑھتی نظر آتی ہے۔ پاکستان کی ثالثی اور ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے جیسے معاملات کو قریب سے کور کرنے والے متعدد پاکستانی اور انٹرنیشنل صحافی پہلے ہی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ آسلام اباد کی بھرپور کوشش ہوگی کہ فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے تاکہ بیرونی عناصر اس پر کم سے کم اثر انداز ہو سکیں ،اسی لیے ابھی تک گزشتہ رات سے غیر ملکی مندوبین کی آمد ،مذاکرات کے وینیو، ان میں شریک ہونے والے افراد سمیت کوئی بھی حتمی تفصیل سامنے نہیں آ سکی جبکہ مقامی اور عالمی میڈیا بھی اس حوالے سے صرف اندازے لگا رہا ہے ۔

پس پردہ سفارتکاری ہی بات چیت کو کامیاب بنا سکتی ہے
اسلام اباد کی کوشش ہوگی کہ بات چیت کو حتمی نتیجے سے پہلے مکمل طور پر پس پردہ رکھا جائے اور تفصیلات طے ہونے کے بعد افیشلی کوئی چیز سامنے آئے یہ انداز پاکستان کی ثالثی کو کامیاب بنانے اور امریکہ اور ایران کے مندوبین جو انتہائی سخت موقف رکھتے ہیں ان کو کسی ایک معاہدے پر لانے کے لیے موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے انتہائی گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی کامران یوسف کے مطابق پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ مذاکرات کی حتمی کامیابی سے قبل کوئی بھی تفصیل سامنے نہ ائے اور اس حوالے سے ابھی تک پاکستان کامیاب رہا ہے۔
سوشل میڈیا کچھ بھی کہے حتمی معلومات کسی کے پاس نہیں
امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام اباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے سوشل میڈیا بالخصوص ایکس پر گزشتہ رات سے مختلف اطلاعات سامنے ارہی ہیں جن میں بعض اطلاعات کے مطابق ایرانی وفت گزشتہ رات اسلام اباد پہنچ چکا ہے جبکہ بعض کے مطابق ایران نے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے کیونکہ لبنان میں اسرائیل مسلسل بمباری کر رہا ہے جبکہ کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں کہ پاکستان آیئر فورس نے ایرانی مہمانوں کے طیارے کو ایران سے ہی سکواڈ کر کے لایا ہے تاکہ ان پر کوئی اٹیک نہ کیا جا سکے اور اس جیسی دیگر کئی اطلاعات زیر گردش ہیں مگر نہ تو پاکستان اور نہ ہی امریکہ اور ایران کی طرف سے کسی بھی حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید کی جا سکی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان جہاں خود رازداری کے انتہائی موثر اصول پر قائم ہے وہیں امریکی اور ایرانی فریقین کو بھی اس بات پر پابند کیا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی تفصیل میڈیا سے شیئر نہیں کریں گے۔

مذاکرات کا طریقہ کار کیا ہوگا؟دفتر خارجہ مکمل رازداری پر قائم
ابھی تک سامنے انے والی انتہائی کم معلومات کے مطابق مذاکرات کی میزبانی اسلام اباد کا پنج تارہ وسیح و غریض ہوٹل سرینہ کرے گا جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ قالیباف کی وزیراعظم شہباز شریف سے مذاکرات سے قبل ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں اس کے علاوہ مذاکرات کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ کیا امریکہ اور ایران ابتدائی مرحلے سے ہی براہ راست بات چیت کریں گے یا پاکستان کے ساتھ نوٹس ایکسچینج کیے جائیں گے اس کے بعد دوسرے مرحلے میں براہ راست مذاکرات ہوں گے. کیا مذاکرات کی کامیابی یا حتمی معاہدہ کا اعلان ان ہی دو دنوں میں ہوگا یا اس کے لیے مزید ا کوئی دن رکھے جائیں گے؟ اس حوالے سے ابھی کوئی تفصیلات سامنے نہیں اس سکی اور دفتر خارجہ جہاں پر یہ ساری تفصیلات طے ہوئی ہیں وہ ان کو مکمل طور پر خفیہ رکھ رہا ہے .
