Sunday, March 29, 2026
ہومبریکنگ نیوزپاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے

پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو غیر مثر یا وقتی قرار دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں توازن، تحمل اور مثر دفاعی حکمت عملی کو برقرار رکھنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کو غیر فعال یا محض وقتی نوعیت کا قرار دینے والے بیانیے کو گمراہ کن قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دفاعی معاہدے ہنگامی حالات کے لیے بنائے جاتے ہیں، نہ کہ روزمرہ بنیادوں پر استعمال کیلئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے اس معاہدے کو فعال نہ کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور ذمہ دارانہ فیصلہ ہے، جو خطے میں کشیدگی کم رکھنے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ مثر دفاعی صلاحیت کا اصل مظاہرہ تیاری میں ہوتا ہے، نہ کہ اس کے بار بار اظہار میں۔ذرائع کے مطابق پاکستان اس معاہدے کے تحت مکمل طور پر تیار اور الرٹ پوزیشن میں ہے، تاہم اسے باضابطہ طور پر فعال نہ کرنا ایک حکمت عملی ہے تاکہ خطے میں غیر ضروری تنا سے بچا جا سکے۔

ماہرین نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سیکیورٹی کے بدلے رقم پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط دفاعی تعاون، مشترکہ سکیورٹی مفادات اور گہرے تاریخی و ثقافتی روابط پر مبنی ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں اپنی خودمختار حکمت عملی اور پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے، جو اس کی دفاعی خود کفالت کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بعض نامعلوم ذرائع سے منسوب بیانات دراصل ایک منظم معلوماتی جنگ کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اتحادی ممالک کے درمیان عدم اعتماد پیدا کرنا ہے۔ ایسے دعوں کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اسٹریٹجک شراکت داریاں وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی ہیں اور ان کی اصل اہمیت فوری یا عوامی سطح پر استعمال میں نہیں بلکہ دفاعی تیاری، سیاسی پیغام اور ممکنہ خطرات کو روکنے کی صلاحیت میں ہوتی ہے۔یہ معاہدہ مشرق وسطی اور مغربی ایشیا میں استحکام کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جو کشیدگی کو کم رکھنے اور ضرورت پڑنے پر مثر ردعمل دینے کی صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ شناخت، اعتماد اور طویل المدتی ہم آہنگی پر مبنی ہیں، جنہیں محض مالی یا وقتی مفادات تک محدود کرنا درست نہیں۔ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ ایک فعال اور ارتقا پذیر حکمت عملی کا حصہ ہے، جو ضرورت کے وقت مثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔