اسلام آباد (سب نیوز)ویب سائٹ ہیکنگ اور ڈیٹا لیکنگ پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کیلئے اہم خطرہ ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ادارے سائبر حملوں کا سب سے بڑا ہدف بن گئے، سرکاری ویب سائٹس اور سرکاری ڈیٹا بیس بھی سائبر حملوں کا ہدف، ڈیٹا چوری ، فشنگ اور جعلی ویب سائٹس کے ذریعے اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ،رواں سال کے پہلے تین ماہ میں پاکستان میں 98سائبر حملے رپورٹ ہوئے
تین ماہ میں صوبائی حکومتوں کے خلاف 32 سائبر حملے ریکارڈ،وفاقی حکومت کے اداروں پر 21سائبر حملے رپورٹ ہوئے ،کاروباری اداروں پر سائبر حملوں کے 16کیسز سامنے آئے ،تعلیمی اداروں کے خلاف 13سائبر سیکیورٹی واقعات رپورٹ ،ٹیلی کام سیکٹر میں 4جبکہ ہیلتھ، پاور اور میڈیا میں 3،3 واقعات رپورٹ، فشنگ مہم کے 4اور جعلی ویب سائٹس کے 9کیسز رپورٹ ہوئے ،دفاع اور ایوی ایشن سے متعلق بھی ایک ایک واقعہ رپورٹ ہوا، سب سے زیادہ 42 کیسز ویب سائٹ ہیکنگ کے سامنے آئے، ڈیٹا لیک اور ڈی ڈاس حملوں کے 17 ، 17واقعات رپورٹ ہوئے
صرف دو سائبر حملوں میں ویب سائٹس مکمل طور پر بند ہوئیں،سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے نیشنل سرٹ متحرک ،نیشنل سرٹ نے ڈیٹا سیکیورٹی اور آن لائن نظام مضبوط بنانے لیے اداروں کو ہدایات جاری کردیں،سال 2024 میں سائبر سیکیورٹی کے مجموعی طور پر 410واقعات رپورٹ ہوئے تھے ،سال 2025میں سائبرسیکیورٹی کے مجموعی طور پر 517واقعات رپورٹ ہوئے تھے، سال 2024 میں وفاقی حکومت کے خلاف 47اور صوبائی حکومتوں کے خلاف 69سائبر حملے رپورٹ ہوئے تھے ،سال 2025میں وفاقی حکومت کے خلاف 111اور صوبائی حکومتوں کے خلاف 137سائبر حملے رپورٹ ہوئے تھے۔
