اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پورا خطہ بشمول ایران اور مشرق وسطی شدید جنگی صورتحال کی لپیٹ میں ہیں، معصوم انسانی جانوں کا ضیاع اور امن کو لاحق خطرات ہم سب کیلئے گہری تشویش کا باعث ہے، پاکستان اس کشیدہ صورتحال میں کوشش کر رہاہے کہ معاملات سفارتکاری کے ذریعے حل ہوں، دوسری جانب ہمیں اپنی مغربی سرحدوں پر بھی دہشتگردی کا سامنا ہے ، افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی جانب سے ہونے والی دراندازی اور حملوں کے جواب میں ہماری بہادر افواج ، ہمارے بہادر سپہ سالار سید عاصم منیر کی لیڈر شپ میں وطن عزیز کی سلامتی، شہریوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنانے کا مقدس فریضہ انتہائی جافشانی کے ساتھ ادا کر رہی ہیں جن پر انہیں سلام پیش کرتاہوں ۔
ایران میں ہونے والے اسرائیلی بہیمانہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ ، معصوم ایرانی بہن بھائیوں کی شہادت پر حکومت پاکستان اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیاہے، ہم نے ان حملوں کی دو ٹوک الفاظ میں بھرپورمذمت کرتے ہیں، پاکستان اپنے برادر مسلم ممالک ، سعودی عرب، یو اے ای، کویت بحڑین ، قطر، اردن لبنان، عمان، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں پر بھی شدید مذمت کرتاہے اور جانی نقصان پر اظہار افسوس کرتاہے ۔ان حملوں سے پورے خطے امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں ، ان مشکل حالات میں میرے ان برادر ممالک کے قائدین سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے ، میں نے آپ کی جانب سے ان ممالک کے عوام اور قیادت کو یہ پیغام دیاہے کہ پاکستان اس آزمائش کی گھڑی میں ان ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑاہے، یہ بات یاد رہے کہ ہم ان برادر ممالک کی سلامتی اور استحکام کو اپنی سلامتی اور استحکام کا حصہ سمجھتے ہیں۔
آج کی دنیا میں ایک ملک میں پیدا ہونے والا بحران چند ہی دنوں میں دوسرے ممالک میں پھیل جاتا ہے ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت چند روز قبل 60 ڈالر فی بیرل تھی وہ اچانک بڑھ کر 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ، اگر حالات یونہی بگڑتے رہے تو یہ قیمتیں قابو سے باہر ہو جائیں گی ، ہماری معیشت زراعت ، صنعتوں ، ٹرانسپورٹیشن اور روز مرہ زندگی کا زیادہ انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس کی فراہمی پر ہے ، اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے معیشت کے استحکام کیلئے نہایت اہم اور مشکل فیصلے کیے ، ایسے انتظامی اور معاشی فیصلے جو ہرگز آسان نہیں تھے، ہم نے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں تاکہ پاکستان کو درپیش توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔
تاہم ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی ہو گی کہ عالمی منڈی میں گیس اور تیل کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، جب دنیا میں کشیدگی بڑھتی ہے ، جنگ جنم لیتی ہے تو اس کے منفی اثرات براہ راست توانائی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں، اسی طرح کے مشکل حالات عالمی سطح پر پیدا ہو چکے ہیں، جس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، آپ کو یقین دلاتاہوں کہ آپ کی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم رکھا جائے ۔
حکومت کو حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں جو اضافہ کرنا پڑا وہ انتہائی مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا جانے والا فیصلہ تھا، جس کی منظوری دیتے ہوئے میرا دل اور دماغ کشمکش سے گزرے ، دماغ کہتا تھا کہ قیمت بڑھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، دل کہتا تھا کہ کہیں غریب نہ پس جائے، مجھے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے سے کہیں زیادہ اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ، ہم نے کوشش کر کے درمیانی راستہ نکالا تاکہ آپ پر بہت زیادہ بوجھ نہ پڑے ۔آپ سب اس بات کے گواہ ہیں گزشتہ برسوں میں پاکستان کو کس قدر مشکل معاشی حالات کا سامنا کرناپڑا، ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے مشکلات کا سامنا تھا۔
سرکاری و نجی اداروں میں 50فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم، ہفتے میں چار دن کام ہوگا، تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی ، کوشش ہوگی کہ عوام پر بوجھ نہ ڈالا جائے، وزیراعظم کا قوم سے خطاب
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
