بیجنگ :چین کی وزارت تجارت نے حال ہی میں 20 جاپانی اداروں کو ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور مزید 20 جاپانی اداروں کو واچ لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ماہ قبل جاپان کو دوہرے استعمال کی اشیاء کی برآمدات پر کنٹرول سخت کرنے کے اعلان کے بعد یہ چین کی جانب سے قانون کے مطابق کیا گیا ایک اور درست جوابی اقدام ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین کا یہ اقدام جائز، معقول اور قانونی ہے، جو عالمی توقعات کے عین مطابق اور عالمی مفادات کے حق میں ہے، اور ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر تاریخی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز اور کاواساکی ہیوی انڈسٹریز جیسے ادارے دوسری جنگ عظیم کے دوران جارحانہ ہتھیار بنانے والی بنیادی قوتیں تھیں، اور آج یہ جاپان کی “دوبارہ عسکریت پسندی” کے ہراول دستے بن چکے ہیں۔ ان کے اقدامات علاقائی سلامتی کی سرخ لکیروں کو عبور کر چکے ہیں۔ تاکائیچی کی قیادت میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی فوجی توسیع پسندی کی راہ پر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔
جاپانی دائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے درسی کتب میں تحریف اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے جیسے اقدامات نے عسکریت پسندی کے احیاء کے لیے بنیادیں فراہم کی ہیں۔ایک ایسا ملک جو اپنی جارحانہ تاریخ پر گہری ندامت کا اظہار نہیں کر سکتا، اس کی جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی توسیع پسندی نہ صرف اس کی اپنی معاشی گراوٹ اور سماجی انتشار کا باعث بنے گی، بلکہ یہ علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ کو بھی تیز کرے گی، جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام کو نقصان پہنچائے گی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظم و ضبط کو درہم برہم کر دے گی۔جاپان پر برآمدی کنٹرول سخت کرنے کا چین کا فیصلہ، علاقائی امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے جاپان کے خلاف ایک طاقتور اقدام اور اس کی “دوبارہ عسکریت پسندی” کو روکنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ ہاتھ ملا کر جاپانی عسکریت پسندی کے احیاء کو روکنے، دوسری جنگ عظیم کے ثمرات کا تحفظ کرنے اور دنیا کے امن و خوشحالی کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔
