Tuesday, January 27, 2026
ہومبریکنگ نیوزکے پی ،مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات،انسانی سرمایہ کاری کا منصوبہ ناکام

کے پی ،مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات،انسانی سرمایہ کاری کا منصوبہ ناکام

اسلام آباد (آئی پی ایس )مالی بے قاعدگیاں،غیر ضروری اخراجات، ملازمین کی بھرتی اور انتظامی نااہلی،محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا انسانی سرمایہ کاری پراجیکٹ ناکامی کا شکار ہوگیا،24ارب روپے کے پراجیکٹ میں مبینہ طورپر سولہ ارب روپے کی مالی بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں سامنے آگئیںنشاندہی کرنے والے آفیسر کا کنٹریکٹ منسوخ کردیاگیا۔اسی مقصد کیلئے ورلڈ بنک کے تعاون سے ہیومن کیپیٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ یا انسانی سرمایہ کاری پراجیکٹ کاآغاز کیاگیا۔پراجیکٹ کا آغاز ورلڈ بنک بورڈ کی منظوری کے بعد ماچ 2021 میں شروع کیاگیا۔

پراجیکٹ میں چار اضلاع پشاور،،،نوشہرہ،،،صوابی اور ہری پور کو شامل کیاگیا۔مقصد ان اضلاع میں صحت کی بنیادی سہولیات کو بہتر بنانا تھا۔تاہم اربوں روپے کے پراجیکٹ میں مالی،انتظامی بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آنا شروع ہوئیں۔ جس پر اس پراجیکٹ کاآڈٹ کروایاگیا۔دستاویزات کے مطابق اس آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔2022کے سیلاب میں تباہ ہونے والی 158میں سینوعمارتوں کے ٹھیکے دومن پسند کمپنیوں کو دیئے گئے۔قواعد کے مطابق ایک کمپنی کوایک سے زیادہ ٹھیکہ نہیں دیاجاسکتا ہے۔رپورٹ میں زائد قیمت پرتعمیر ومرمت کے ٹھیکے دینے سے 7اعشاریہ آٹھ ارب روپے نقصان کا تخمینہ لگایاگیا۔

خاندانی منصوبہ بندی جو اس پراجیکٹ کا دائرہ اختیار ہی نہیں تھا اس کیلئے بغیرکسی بولی کے ادویات اور دیگراشیا کی خریداری پر ایک ارب روپے خرچ کرڈالے۔ہسپتالوں کا فرنیچر،آلات اورشمسی توانائی کا سسٹم اوپن مارکیٹ سیدس گنازائد قیمت پر خریداگیاجس سے دو ارب روپے کا نقصان ہوارپورٹ کے مطابق 78لاکھ روپے کی اوپی ڈی کی رسیدوں کا کوئی ریکارڈ نہیں دیاجاسکا۔جعلی طریقہ کار کے ذریعے من پسند کمپنی کو ہائیر کرکے بیس کروڑ روپے دیئے گئے۔حکومتی کے مقرر کردہ معیار سے کم اجرت پر سات سو بھوت ملازمین بھرتی کئے گئے۔۔۔جن کا کوئی ریکارڈ نہیں۔بھوت ملازمین کی مد میں اکیاون کروڑ روپے سے زائد ادائیگیاں کی گئیں۔رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہسپتالوں کیلئی بغیر کسی ڈیمانڈکے 57کروڑ روپے سے زائد کی ادویات خریدی گئیں۔

ادویات کہاں استعمال ہوئیں ،اس کا ریکارڈ بھی نہیں دیاجاسکا۔رپورٹ کے مطابق کروڑوں روپے کی ادویات تو خرید لی گئیں لیکن انہیں رکھنے کیلئے سٹوریج کا بندوبست ہی نہیں تھا۔ان ادویات کیلئے گرلز ہاسٹل اور حتی کہ پارکنگ ایریا بھی مختص کیا گیا۔یہی نہیں بلکہ فیول اور دیگراخراجات کی مد میں تین کروڑ روپے سیزائد ڈکارلئے گئے بعض افسروں کو کروڑوں روپے کے اضافی الاونس دیئے گئے۔کنسلٹنٹ کمپنیوں اور افراد سے سیلز ٹیکس کی عدم کٹوتی اور خلاف ضابطہ بھرتیوں سے بھی کروڑوں کا نقصان پہنچایا آڈٹ رپورٹ کی سفارشات پرعملدرآمدکے بجائے مانیٹرنگ ایویلویشن ایکسپرٹ کوہی عہدے سے ہٹادیاگیا اوربغیر نوٹس کے معاہدہ منسوخ کردیاگیا۔آڈٹ اینڈ مانیٹرنگ رپورٹ میں جن افسروں کوذمہ دار ٹھہرایاگیا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔