Friday, May 8, 2026
ہومکالم وبلاگزبلاگزاللّٰہ سے معافی مانگنے کا طریقہ

اللّٰہ سے معافی مانگنے کا طریقہ

تحریر: سجاول سلیم
@Sajawal_13
کسی بھی انسان میں قدرت تحمل اوربرداشت کا ہونا ایک ایسی فضیلت ہے جس کے ذریعے انسان بہت سی مشکلات پر قابو پاتا اور بہت سی فضیلتوں کو حاصل کرتا ہے۔ معافی مانگنا اور معاف کرنا اعلیٰ ظرفی ہے، اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو معاف کرنا شروع کر دیں، اللہ آپ کو معاف کرے گا- اللہ تعالیٰ کا ایسا بندہ جس کا دل و دماغ دنیا کی چمک دمک سے متاثر ہو کر نفسانی خواہشات، مختلف لذتوں اور پھر شیطان کا مختلف جہتوں سے مسلسل حملہ اسے کسی نہ کسی گناہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔
ایسی صورت میں اپنے کریم رب کی بارگاہ سے باغی ہونے کے بجائے اس کے فضل و کرم اور لطف و احسان کی امید رکھتے ہوئے اپنے سرکو اس کے سامنے جھکا کر سچی توبہ کرنا چاہیے۔ انسان اللہ تعالی سے حصولِ معافی اور مغفرت کے لئے مایوس ہو جاتا اس لیے توبہ تو بشریت میں پائے جانے والے نقص اور انسانیت میں پائی جانے والی کمی کوتاہی کا لازمی تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی کمزورانسانوں پر یہ رحمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے پھر جب کبھی بھی گناہوں اورنافرمانیوں کا غلبہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی طرف رجوع کرنے کا حکم بھی دیا۔

االلہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اور جب وہ اپنی جانوں پہ ظلم کر بیٹھیں تو اے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی خدمت میں پیش ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کی شفاعت فرما دیں تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا پائیں گے (النساء 64)
انسان بندہ بشر ہے، اس سے غلطیاں ہو جاتی ہیں، کچھ صحابہ کرامؓ سے غلطیاں سرزد ہوئیں تو انہوں نے اپنی غلطی کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ سزا کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ تاریخِ اسلام میں ہمیں ایسے بہت سے واقعات نظر آتے ہیں۔ اپنی غلطی پر معافی نہ مانگنا تکبر اور اکڑ پن ہے۔ اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنا اور ضد پر قائم رہنا ایسی خصلت ہے جس کی وجہ سے سوائے دوریوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے وہ اللہ ہی ہے جو انسان کی آخری سانس تک اس کے لوٹنے کا منتظر رہتا ہے۔ وہ کریم اپنے بندے سے ستر ماٶں سے زیادہ محبت کرنے کی بات ہی اسلیے کرتا ہے کہ اس نے انسان کے اندر محبت کی جانب کھچے جانے کی ایک مقناطیسی قوت رکھی ہے۔ اسی لیے وہ ”جبار اور ”قہار“ ہونے کے باوجود اپنے رحمن اور رحیم ہونے کا احساس دلاتا ہے تاکہ اس کا بندہ کی جانب پلٹ جاٸے ۔ اللہ کریم حق سننے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرماٸے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔