کابل ،کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر 2 دھماکوں کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوگئے ، ہلاک ہونے والوں میں 12امریکی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں ۔
غیر ملکی خبررساں ادارے(سی این این)کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ابتدائی گیٹ کے باہر ہوا جہاں سیکڑوں کی تعداد میں افغان عوام ایئرپورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے جب کہ دوسرا دھماکا ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل کے باہر ہوا۔عرب میڈیا کے مطابق خودکش دھماکے کے بعد فائرنگ کی آواز بھی سنائی دی۔ دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں 12امریکی فوجی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی 3 امریکی فوجی اہل کار بھی شامل ہیں۔امدادی ذرائع کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمیوں کے علاج اور لاشوں کی شناخت کا سلسلہ جاری ہے۔ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، روسی میڈیا کے مطابق داعش نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ پینٹاگون نے کابل دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے اس واقعے میں عام افغان شہریوں سمیت امریکی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ادھر طالبان کا کہنا ہے کہ ہمارے جنگجوں کو داعش سے خطرہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ادھر وائٹ ہاس نے کابل دھماکے بارے امریکی صدر جو بائیڈن کو بریفنگ دی ہے۔خیال رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے افغان عوام پر زور دیا کہ وہ کابل ایئرپورٹ سے دور ہٹ جائیں کیونکہ وہاں داعش کے دہشتگرد حملے کا خطرہ ہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن، لندن اور کینبرا نے ایک قسم کا انتباہ جاری کیا تھا، اس میں افغان شہریوں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ اس وقت دھماکے کی جگہ پر لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال بہت بگڑتی جا رہی ہے، ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔ افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن قریب ہے، وقت کم ہے لیکن افغانستان سے نکلنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ الرٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ کابل ایئر پورٹ سے چلے جائیں اور سکیورٹی خطرات کے باعث وہاں جانے سے گریز کریں۔برطانوی وزارت خارجہ نے بھی کہا تھا کہ کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردی کا شدید خطرہ ہے، برطانوی شہری دیگر ذرائع سے انخلا ممکن بنائیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس جگہ دھماکا ہوا وہاں سیکیورٹی امریکی فورسز کی ذمہ داری تھی۔ طالبان اپنے لوگوں کی سیکیورٹی پر توجہ دے رہے ہیں۔ شرپسندوں سے پوری طاقت سے نمٹا جائے گا۔پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر پہلا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی اہلکار اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں جب کہ دوسرا دھماکا ایبے گیٹ کے قریب ہی بارون ہوٹل کے باہر ہوا۔دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کابل دھماکے کی تفصیلات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کے باہر فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جب کہ یہ واقعہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر رونما ہوا ہے جہاں پر سیکیورٹی کے فرائض برطانوی فوج انجام دے رہی ہے اور یہ ان چند گیٹوں میں سے ایک ہے جسے دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر بند کیا گیا تھا۔برطانوی وزیردفاع نے کہا کہ دھماکا ایبے گیٹ کے باہر ہوا ہے جہاں ہماری فوج سیکیورٹی دے رہی ہے تاہم ہمارے پاس دھماکے کے نتیجے میں برطانوی فوج کے جانی نقصان کی کسی قسم کی اطلاعات نہیں ہیں۔اس سے قبل امریکا اور برطانیہ سمیت مغربی ممالک نے دہشت گردی کے پیش نظراپنے شہریوں کو کابل ایئرپورٹ سے دوررہنے کی سخت ہدایت جاری کی تھیں۔
کابل ایئرپورٹ کے باہر خود کش دھماکے، ہلاکتوں کی تعداد 60تک جا پہنچی ، 12امریکی فوجی بھی شامل ،140 افراد زخمی ، داعش نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
