اسلام آباد،مشہور رومانوی شاعر احمد فراز کو ہم سے بچھڑے 13برس بیت گئے،شاعر احمد فراز کا شمار دنیا کے نامور شاعر میں ہوتا ہے۔ 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے جبکہ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ انہوں نے اردو ادب اور فارسی میں ایم اے کیا تھا اور ساتھ ہی ریڈیو پاکستان میں فیچرز لکھنا شروع کیے تھے۔احمد فراز کا جب پہلا شعر چھپا تو وہ اس وقت بی اے مکمل کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان کو خیرآباد کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی میں لیکچرشپ کا شعبہ اختیار کرلیا تھا۔یونیورسٹی میں لیکچرشپ کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ درد آشوب آیا۔ تو وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی جانب سے آدم جی ادبی ایوارڈ عطا کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور)کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے تھے۔احمد فراز کو سال 1976 میں اکامی ادبیات کا پہلا سربراہ بنایا گیا تھا اس کے بعد جنرل ضیا ء کے دور میں انہیں جلا وطنی اختیار کرنی پڑھی تھی اور 1993 سے 2006 تک وہ نیشنل بک فانڈیشن کے سربراہ رہے تھے۔سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے ان کی کارگردگی پر انہیں ہلال امتیاز کے ایوارڈ سے نوازاگیا تھا جبکہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اہم آہنگی کی علامت بھی تھے ،25 اگست 2008 کو وہ اسلام آباد میں اپنے مداعوں سے بچھڑ گئے تھے ۔اگر بات کی جائے حروف کی تو اہ اپنی مرضی کے مالک تھے ان سے نا تو کسی کی ریاضت کا خیال رہتا ہے اور جب چاہیں کسی پر بھی نچھاور ہوجاتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کے لئے خود حروف بھی معنی و متن کے لیے اپنی تاثیر کو خود ہی وقف کر دیتے ہیں۔سنہرے جذبات کی روشنائی، خوش نصیب تخلیق، رومان کی علامت ، مزاحمت کے استعار،ہجر کے مراحل سے لیکر وطن پرستی اور فکری اساس کے حامل احمد پراز کے پاس حروف کی قلت نا تھی ان کی شاعری کی روایت اور تاثیر میں اپنے آپ خود ایک مثال تھی ۔احمد فراز اپنے شعر خود پڑھتے تھے تو ان کے شعر دل اور دماغ پر نقش ہوجاتے تھے۔
مشہور رومانوی شاعر احمد فراز کو بچھڑے 13برس بیت گئے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
