تحریر :فضل احمد
گلگت بلتستان اسمبلی میں بجٹ2021 -22پاس ہونے کے بعد سیاسی تنا میں اضافہ ہوا ہے احتجاج اور دھرنوں کی سیاست مزید طول پکڑتی جارہی ہے اپوزیشن نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کیخلاف عید کیبعدسٹرکوں پر نکلیں گے اور شدید احتجاج کیا جائیگا۔یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان کے محروم طبقے کو اوپر اٹھانا چاہتا ہے اورگلگت بلتستان کو بھی دیگر صوبوں کی طرح ترقی کرتا ہوا ایک صوبہ دیکھنا چاہتا ہے اسی ضمن میں انھوں نے جی بی کو ایک سو چھ ارب روپے کاتاریخی بجٹ دیا۔ یہ ترقیاتی بجٹ گلگت بلتستان کے عوام کا ہے کسی پارٹی یا کسی ایک فرد کیلئے نہیں جو مرضی سے تقسیم کرے، وزیراعظم یہ کبھی نہیں چاہتے کہ گلگت بلتستان کا ایک حصہ ترقی کرے اور دوسرا حصہ ویران اور بنجر رہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت کا ایک زبردست موقع ہیوزیراعظم نے اپنے خطاب میں کئی دفعہ زکر کیا ہے کہ جی بی کیپاس ایک ہی موقع ہے کہ وہ سیاحت کو فروغ دیں اور اس سے پیسے کمائے اس ضمن میں وزیراعظم پاکستان نے وزیراعلی خورشید شاہ کو اسلام آباد طلب کرکے کئی دفعہ سیاحت کے بارے میں بریفنگ بھی لیا ہے اور ہدایت بھی کی ہے کہ گلگت بلستان کے کونے کونے تک اور پہاڑوں تک بھی سڑکوں کا جال بچھائیجائیتاکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کو سفر میں دشواری کا سامنا کرنا نہ پڑ سکے کیونکہ وزیراعظم جانتے ہیں کہ اگر سیاحت کو جی بی میں فروغ دینا ہے تو سڑکوں کو جال بچھانا ہوگا تبی یہ علاقہ ترقی کرسکتا ہے۔لیکن کیا کرے یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور ہے۔ وہی روایتی سیاست اور کھسر پھسر کی سیاست نے گلگت بلتستان کو ہر دور میں پیچھے رکھا ہے گلگت بلتستان کے عوام آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جارہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے مزے لینے والے نام نہاد یاستدانوں کا کوئی ویژن نہیں یہ جی بی کے بارے میں نہیں سوچتے کہ کیسے اس علاقے کو آگے بڑھانا ہے بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ کیسے ترقیاتی کاموں کی آڑ میں اپنی جیبیں بھرنا ہیں یہی وجہ ہے کہ آج تک گلگت بلتستان میں ہیلتھ سیکٹر،ایجوکیشن اور انفرا اسٹکچر ٹھیک نہیں ہوسکا جہاں کہیں تھوڑا کام ہوا بھی ہے تو اس میں ان کا ذاتی و مالی فائدہ تھا ٹھیکے اپنے فرنٹ مینوں کو دیے جاتے ہیں اوراپناحصہ الگ کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مجموعی طور پر اس صوبے کو کیسے اوپر اٹھانا ہے یہ کوئی نہیں سوچتا۔ میں آپ کی توجہ گلگت بلتستان میں ایک ایسے بدقسمت حلقے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہردور میں نظر انداز ہوتا آیا ہے اس حلقے کا نام یاسین ہے یہاں پر ڈکٹیٹر ضیاالحق اور پرویزمشرف کے بعد کسی جمہوری دور کے سیاستدانوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس علاقے پر کام کرے۔ تحصیل یاسین میں جیتنے بھی چھوٹے موٹے سرکاری اسکولز اور ڈسپنسریز بنے ہیں یہ جنرل ضیاالحق نے بنائے تھے شہید لالک جان نشان حیدر کی بدولت پرویزمشرف نے پہلی بار تارکول کا سٹرک بنایا اس کے بعد کسی نے بھی موڈ کر اس علاقے کی طرف نہیں دیکھا۔ سیاستدان آتے ہیں اعلانات کرتے ہیں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ آج یاسین کا ہر شعبہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کوئی میرے طرف دیکھیے میرے دکھ کا کوئی مدوا کرے پر کوئی مسیحا نہیں مل رہا۔ لوگ اچھے اور محنتی ہیں اپنے رزق حلال میں مشغول ہوتے ہیں لیکن اپنے حق کیلئے آواز نہیں اٹھاتے ہیں ایک وجہ یہ بھی ہے جس کی وجہ سے یہ علاقہ پیچھے رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یاسین کے عوام کسی بھی امیدوار کو ایک ہی بار موقع دیتے ہیں اور کارکردگی دیکھتے ہیں اس کے بعد موقع نہیں دیتے یہاں کے لوگوں کا طرز سیاست ہی کچھ اور ہے یہ وفاق کو نہیں دیکھتے کہ وہاں حکومت کس کی ہے،یہاں کہ لوگ یہ بھی اندازہ نہیں لگاسکتے کہ جی بی میں حکومت کون بنانے جارہے ہیں انہیں ووٹ کس امیدوار کو دیناچاہیے یہی سیاسی نابالغی اورجذباتی سیاست کی وجہ سے آج تک یاسین کے لوگ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔اورہمشیہ اپوزیشن کے امیدوار کو موقع دیا جو ہر دور میں فنڈز کا رونا روتے ہیں اور آج بھی یہی سن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے یاسین سب سے پیچھے ہیں اگر میں یہاں پر بنیادی مسائل گن لوں تو بہت سارے ہیں ان پر الگ بات ہوگی۔اب ضروت اس بات کی ہے کہ وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اس علاقے پر توجہ دیں اور لوگوں کے دیرنہ مسائل حل کرے چاہے وہ یہ کام کسی تحصیل دار کے ذریعے ہی کیوں نہ کرانا پڑے کیونکہ وزیراعلی اپوزیشن کیساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں یہاں کا منتخب نمائندہ غلام محمد ہے جو اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھتی۔ یہاں کے باسی سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی افغانستان یا ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ پاکستان کا حصہ اور جی بی میں شمار ہے آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلے تین دہائیوں سے اس علاقے میں بنیادی مسائل پر کام نہیں ہوئے۔ مانا کہ اس علاقے میں ایک بیباک اور نڈر قیادت کا فقدان ہے جو ایمانداری سے کام کرے اور اس علاقے کو باقی ضلعوں کی طرح ایک پہچان دے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جی بی گورنمنٹ یہاں کے باسیوں کو نظر انداز کرے یہاں کے عوام کا جمہوری حق ہے کہ ان کیبنیادی مسائل حل ہوں کیونکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کیلئے ضروی ہے کہ نیت صاف ہو۔ ضداور اناپرستی ختم کیے بغیر گلگت بلتستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اناپرستی کا خاتمہ ترقی کا زینہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
