تحریر: حبیب الرحمٰن خان
@HabibAlRehmnkhn
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان نے زمین پر اپنی زندگی کے آغاز سے ہی وقت کے تعین کے لیے ماہ و سال کا حساب رکھنا شروع کیا تو عددی حساب سے ماہ اور پھر بارہ ماہ کا ایک سال طے کیا گیا اور یہ شاید اس لیے بھی کہ رب تعالیٰ نے زمین و آسمان کی پیدائش سے پہلے ماہ و سال کا یہی طریقہ رکھا جسے بنی آدم نے اپنایا
کہا جاتا ہے کہ اسلام سے قبل بھی چارماہ کا احترام کیا جاتا تھا اور ان میں محرم الحرام بھی شامل تھا
محرم الحرام کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کہ اس ماہ مقدس میں بیشتر واقعات ہوئے
اسی ماہ مقدس میں رب العالمین نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی
طوفان نوح کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی ماہ پہاڑ پر رکی
حضرت یوسف علیہ السلام کو اسی ماہ مقدس میں رہائی ملی
حضرت ایوب علیہ السلام کو بھی محرم الحرام بیماری سے شفاملی
حضرت یونس علیہ السلام کو اسی ماہ مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی تو
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اور رب عظیم نے انہیں سمندربرد کردیا
محرم الحرام میں ہی حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا
یہ تو وہ واقعات ہیں جو اسلام سے پہلے اور دسویں محرم کو وقوعہ پزیر ہوئے
طلوع اسلام کے بعد حضرت ام عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں کہ غلاف کعبہ بھی اسی دن چڑھایا جاتا تھا (بخاری ، مسلم)
حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ پر 28 زی الحجہ کو حملہ ہوا اور یکم محرم کو جام شہادت نوش فرمایا
چونکہ اسلام سے پہلے دوسرے مذاہب کے لوگ دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے ان سے مماثلت ختم کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے رکھنے کا کہا۔
محرم الحرام تاریخ کی نگاہ میں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
