تحریر: محمد حارث ملک زادہ
@HarisMalikzada
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کے پاس ناقابل یقین حد تک خوبصورت و سیاحتی جزائر ہیں؟ بیشتر پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ غلط فہمی ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں کوئی خوبصورتی نہیں ہے جوبھی ہے وہ صرف غیرملکیوں خاص طورپریورپی ممالک کے پاس ۔ یہاں یہ سب انتہائی غلط ہیں دراصل بالکل غلط! میں بطور پاکستانی ، پاکستان کی ناقابلِ فراموش و بے مثال خوبصورتی کا اعتراف کرتا ہے کہ دنیا کا کوئی دوسرا ملک چاہے وہ یورپی ممالک ہو یا مشرقی یا شمالی ممالک دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ پاکستان کی خوبصورتی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی خوبصورتی بلند و بالا پہاڑ،سرسبزصحرا، آبشاریں ، جھیلیں ، دریاؤں ، ساحلوں وغیرہ پرمشتمل ہے لیکن ان سب کے علاوہ بھی پاکستانی خوبصورتی و سیاحتی جگہ ، پاکستان کے انمول جزائر ہیں۔
جزیرہ ، زمین کا کوئی ٹکڑا جو کہ ایک براعظم سے چھوٹا ہوتا ہے لیکن محدود رقبہ کے ساتھ سرسبزیا برفانی طور پر چاروں طرف سے مکمل طور پر پانی سے گِھرا ہواہوتا ہے۔ جزیرے سمندروں ، جھیلوں یا دریاؤں میں بھی ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں جن ممالک کے پاس سمندر ہے ان کے پاس کئی چھوٹے بڑے جزیرے ہوتے ہیں اسی طرح پاکستان کو بھی اللہ تعالیٰ نے کئی خوبصورت جزائر سے نوازا ہے ۔
پاکستان کے جنوب میں ملحقہ بحیرہ عرب میں صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان کے نزدیک 15 کے قریب جرائز ہیں۔
صوبہ بلوچستان
آستولا، مالان اور زلزالہ
صوبہ سندھ
بابابھٹ، بڈو، بکور، بنڈل ، چرنا، کلفٹن اویسٹر راکس، کھبپریانوالہ، منوڑہ، شمس پیر، ہاکس بے، دھاری ، یپمو (ٹیڈو)
اب یہاں ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہیں جن پر توجہ دی جائے تو پاکستان کو سیاحتی اور معاشی طور پر بے انتہاء فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
استولا
استولا جزیرہ صوبہ بلوچستان کی گوادر بندرگاہ کے نزدیک بحیرہ عرب میں ایک غیر آباد اور غیر ترقی و غیر تعمیر یافتہ جزیرہ ہے ۔ استولا جو رقبہ کے لحاظ سے تقریبا 6.7 مربع کلومیٹر پھیلا ہوا ہے اس کی لمبائی 6.7 کلومیٹر اور چوڑائی 2.3 کلومیٹر ہے۔ بلند ترین مقام سطح سمندر سے 246 فٹ ہے۔ جزیرے پر پسنی سے موٹر بوٹ کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے اور یہاں تک پہنچے میں 5 گھنٹے تک لگ جاتے ہیں۔
بنڈل
بنڈل جزیرہ صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ساحلی پٹی کے قریب پاکستان کا سب سے بڑا سرسبز جزیرہ ہے ، جو 120 مربع کلو میڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے کراچی سے 25.8 کلو میٹر کی مسافت پر واقع اس جزیرے میں صوفی یوسف شاہ کا مزار بھی ہے جن کے عرس پر ہرسال ہزاروں افراد وہاں جاتے ہیں۔
بڈو
بڈو جزیرہ بھی صوبہ سندھ کی ساحلی شہر کراچی کے قریب ایک چھوٹا جزیرہ ہے جو بحیرہ عرب میں واقع ہے۔ بڈو جزیرہ غیر آباد ہے اور کل رقبہ 60 مربع کلومیٹر ہے۔ جزیرے کے گھنے تیمر جنگل میں موجود ہے۔ یہ جزیرہ ، کراچی سے 24.9 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
منوڑہ
منوڑہ ایک چھوٹا سا جزیرہ نما ہے جو شمال میں کراچی ہاربر اور جنوب میں بحیرہ عرب کے درمیان ایک حفاظتی رکاوٹ بناتا ہے اس کا رقبہ تقریبا 8.4مربع کلومیٹر ہے۔ منوڑہ کے لمبے ریتلی ساحل ، جوسینڈ پٹ کے ساحلوں میں ضم ہو جاتے ہیں اور پھر کئی کلومیٹر تک ہاکس بے کے ساحلوں تک پھیل جاتے ہیں ، منوڑہ جزیرے کے جنوب مشرقی سرے پر منوڑہ پوائنٹ لائٹ ہاؤس ہے جس کا ٹاور 38 میٹر بلند ہے۔
چرنا
چرنا جزیرہ جوبلوچستان اورسندھ صوبوں کے درمیان حدود میں کیماڑی ٹاؤن کے قریب واقع ہے۔ چرنا جزیرہ ایک چھوٹا ، غیر آباد جزیرہ ہے چرنا جزیرہ چھ مربع کلومیٹر رقبہ کے ساتھ تقریبا 1.2 کلومیٹر لمبا اور 0.5 کلومیٹر چوڑا ہے۔ مبارک گوٹھ کے ماہی گیر چرنا جزیرے کے قریب ماہی گیری کے لیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے بے آباد جزائر کا یہاں ذکرکرنے کا مقصد صرف پاکستانی حکومتوں کی توجہ اورعوام کوسیاحتی معلومات دلانا ہے یہ قیمتی جزائر ہیں جہاں بنیادی سہولیات فراہم کرکے بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔
