ہومکالم وبلاگزبلاگزدیا جلائے رکھنا ہے

دیا جلائے رکھنا ہے

تحریر: حمیرا الیاس

@humma_g

اور جب بڑے ابو کو کہا کہ ہمیں یہ جگہ چھوڑنا پڑے گی اورپاکستان جانا پڑے گا ورنہ ہمیں ہندو بلوائی ماردیں گے، تو بڑے ابو کہتے، بہتر ہے ادھر ہی مرجائیں اپنی جگہ تو ہوگی۔ تم لوگوں کوجانا تو میں یہ جگہ نہیں چھوڑوں گا۔ یہ میری جاگیر ہے۔ بڑی مشکل سے بڑے ابو کو دادا ابو نے انہیں راضی کیا چڑھایا وہاں دو صوبیدار سکھ تھے اور ٹونسے کے مسلمان صوبیدار، کل ملا کر چار بندوقیں، اور لاٹھیوں سے لیس ۔۔ یوں بزرگ بچے اور خواتین کا  قافلہ چل پڑا،جیسے ہی ٹونسے کی پہاڑی سے اترے، قافلے پر حملہ ہوا،جب بندوقوں کے چند فائرگونجے تو سب بلوائی بھاگ گئے، اور بحفاظت قافلے کو قریبی اسٹیشن تک پہنچایا گیا، اب اگلا مرحلہ تھا کہ کیسے بزرگوں کو بھجوایا جائے کہ ٹرینیں تو کھچاکھچ بھری ہوئی تھیں۔ صوبیدار بلبیر سنگھ نے ساتھیوں سے کہا کہ ذرا بڑے بچے اور جو خواتین و مرد ٹرین پر آسانی سے چڑھ سکے انہیں ٹرین پر بھجوادیں باقی کو نزدیکی بارڈر تک پہنچا کر سرحد پار کراکر ہم واپس چلے جائیں گے۔ یوں والد صاحب،دادی ماں اور کچھ فیملی کے لوگوں کو ٹرین میں سوار کرادیا گیا ، دادا ابو، بڑے ابو اور خاندان کے بزرگ لوگوں کو لیکر بارڈر کی طرف بڑھے راستے میں حملے کی صورت ان چار بندوقوں کی بدولت بالآخر قافلہ بارڈر کراس کر کے ساہیوال پہنچا، اور دادا ابو کے ایک کزن اس دوران لاپتہ ہوئے جو پھر کبھی نہ مل سکے۔ ابو لوگ ٹرین میں بہت مشکل سفر کے بعد واہگہ کے کیمپ پہنچے تو جاگیرداری کی خودداری کہتی کہہ میں کسی سے کچھ نہیں لینا، اور پیٹ کی بھوک کہتی کہ سب آگے بڑھ کے کھانا چھین جھپٹ کر لے رہے، ہمیں کیسے ملے گا۔۔ بہت محبت سے پیارسے اہل لاہور نے سنبھالا ان مہاجرین کو لیکن، ابو نے دادی ماں سے سب سے زیادہ مار کھائی،باقی بچے بھوک برداشت کرکے بیٹھ جاتے،ابو سے ماں کی کمزوری نہ دیکھی جاتی تو کہیں روٹی ڈھونڈنے نکلتے، اور واپسی پرمارکھاتے، دادی ماں روٹی پکڑ کر کہیں آس پاس کے کسی فیملی کو دے آتیں۔ بس وہی کھانا جو اپنے خیمہ میں کوئی عزت سے دے جاتا تو سنبھال لیتی کہ اگلا کھانا جانے کب ملے گا پھر آہستہ آہستہ پہلے سے پاکستان آئے رشتہ داروں کا سراغ ملا تو بچیانہ کی طرف کا سفرشروع ہوا اس سے پہلے ہی مانی ماں جو مہدی شاہ کی حویلی (یہ لاہور فیصل آباد کے راستے میں تھا)  میں پناہ گزین تھیں مہدی شاہ کی بیوی نے مہدی شاہ سے بندوق چلانا سیکھی کہ پیچھے کوئی لوکل ہندو آئے تو اس سے نمٹ لیا جائے ۔

والد تب سات سال کے تھے جب ہجرت کی۔ دس سال کے ہوئے تو دادا ابو بچیانہ سیٹل ہوئے جہاں  ابو اور تایا ابو کو داخل کرادیا گیا غیر معمولی ذہین بچہ، جب وظیفہ کے امتحان کے لئے بورڈ گیا تو ٹاپ کرنے کے باوجود،زیادہ عمر کا ہونے کی وجہ سے وظیفہ مسترد ہوا اور پھر تمام عمر یہ سلسلہ چلا۔ زندگی آسان نہیں تھی،جب قوت فیصلہ سلب ہوا بہت محرومیاں اور مشکلات حصے میں آتی ہیں ذہین ہونے کے باوجود بہت ساری جگہوں پر آگے بڑھنے میں رکاوٹ آئیں بی ایس سی تک ان کی پڑھائی کا خرچ اٹھایا،پھر اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا ٹاسک دے دیا گیا۔ نوشتہ میں پیپر مل میں نوکری شروع کی، ایک سیاسی گرو کی دیوانگی میں اپنی ساری تنخواہ تک لٹا دینے والے ورکر کو ایک دوسرے ورکرکی موت کا ارڈر دے دیا گیا، انکار پر دو بار جب حملہ ہوا تو بہنوئی نے سالے کو بچانے کے سب سامان سمیٹ کر چپ چاپ کسی گمنام جگہ جا کر جان بچانے کا کہا، اور جائے قرار منڈیالی پیپر مل رہی اور یوں زندگی کا اک نیا باب کھلا، اور پڑھائی اور نوکری ساتھ ساتھ چلے۔ یوں لکھنے لکھانے کاسلسلہ بھی شروع کرلیا۔ کتابیں بھی لکھ ڈالیں  تقابل۔ادیان پر،اسلام کا سیاسی معاشرتی اور معاشی نظام،جسے جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے نہ صرف خود پڑھا بلکہ سراہا بھی۔

اور یوں علم سے محبت کاسلسلہ اگلی نسل تک منتقل ہوا۔ ہر بارجب پاکستان انڈیا کا میچ ہوتا، اور ابو کسی پاکستانی کھلاڑی کو ڈانٹ رہے ہوتے اس یہ کیا کر رہے ہو، باؤنس کیوں دیا،وکٹ ٹو وکٹ آؤ،تو ہمارا پہلا مذاق یہ ہوتا ابو کیوں ڈانٹ رہے خوش ہوں آپ کا ہندوستان جیت رہا۔ نانی ماں کو چھیڑنا بسنت کور یاد نہیں آتی،جامن کے درخت  اور آم امرود کے باغات،اور ان دونوں مہاجرین کا ایک ہی کہناہوتا تھا جس وطن کی خاطر سب چھوڑ آئے،جیسا بھی ہے اب یہی ہمارا ہے۔ اسے کبھی چھوڑنے کا سوچنا بھی مت۔ جب جب لبرل اور نام نہاد ماڈرن طبقہ پاکستان پر ہرزہ سرائی کرتا، یا کچھ صحافی اپنے قلم کی قیمت وصول کرکے مہاجر اور لوکل کے فرق پر تقریر جھاڑتے ہیں تو سن کر خون کھولتا ہے کہ مہاجرین نے تو پاکستان کو اپنا سب کچھ تسلیم کرلیا، یہ سچ ہے کہ ہم آج بھی اپنی حویلی کی سیرکو جانا چاہتے،ہوشیار پور کی تقسیم میں دھاندلی نہ کی گئی ہوتی تو ہمیں یہ سب نہ برداشت کرنا پڑتا، لیکن پھر بھی پاکستان کی خاطر اپنا تن من دھن لٹانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے کیونکہ یہ وہ دیا ہے جو ہمارے اجداد نے اپنے خون پسینے سے روشن کیاہم اسے کسی صورت اغیار کے ہاتھوں یرغمال بنتا نہیں دیکھ سکتے یہی وجہ ہے کہ ہرممکنہ ففتھ جنریشن وار سے لے کر آن گراؤنڈ وار تک ہم سب پاکستان کے اس دیئے کی لو کو برقرار رکھنا چاہتے ہر چودہ اگست یہ عہد دہرایا جاتا کہ وہ سب قربانیاں جو اجداد نے اس وطن کی خاطر دیں،ان کی حفاظت کے لئے ہر آن مستعد و تیار رہیں گے۔

موج بڑھے یا آندھی آئے،دیا جلائے رکھنا ہے

گھر کی خاطر سو دکھ جھیلے، گھر تو آخر اپنا ہے

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔