ہومکالم وبلاگزبلاگزپاکستان پرقرض کے بوجھ کا اصل ذمہ دارکون؟

پاکستان پرقرض کے بوجھ کا اصل ذمہ دارکون؟

تحریر: محمد حارث ملک زادہ
‎@HarisMalikzada
‏حدیث مبارکہ ہے
قرض لینے سے بچو! کیونکہ قرض رات کا غم اور دن کی رسوائی ہے۔
یہ حدیث زندگی کے تمام پہلوؤں کیلئے، چاہے وہ کوئی انسان ہو یا کاروبار ہو یا کوئی ملک وغیرہ سب کے لیے انتہائی اہم اورفائدہ مند ہے۔
قرض کے زیرِ بحث عنوان پرمیں صرف ایک ملک یا حکومت پرہی تفصیلی بات کروں گا جو کہ پاکستان ہے، حکومتی قرض کا مطلب کہ کسی ملک یا حکومت پر واجب الادا قرضہ ہے۔ حکومتی قرضوں کی بات یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کوئی اورہوتا ہے قرض ادا کرنے والا کوئی اور۔ پاکستان کو ہی مدنظر رکھا جائے قرضوں کے بوجھ کے ذمہ دارحکومتوں کے قرض لینے والے بد دیانت اور کرپٹ لیڈر ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا یہ سارا قرضہ آخر کار اس ملک کے ٹیکس دھندگان کو بھرنا پڑتا ہے جس پرسود بھی شامل ہوتا ہے۔ حکومتی قرضوں کے بوجھ نے ان آنے والی نسلوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ پاکستان پرقرضوں کے بوجھ کے بارے میں تفصیل میں جانے سے پہلے اصل ذمہ داروں کا ذکر کردو کہ پاکستان کے قرضوں کا ذمہ دار صرف اور صرف پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن کے نااہل سیاستدان، کرپٹ بیوروکریٹ، اشرافیہ وغیرہ ہیں۔ 70 برس کے اتنے بڑے بوجھ کا خمیازہ اوراثرموجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اعدادوشمارکے اندازہ کے مطابق پاکستان پر 116309ملین امریکی ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے اس لحاظ سے ہر پاکستانی شہری پر ایک لاکھ 70 روپےکے حساب سے قرضہ ہے۔ قرضوں کے اس بوجھ کے علاوہ پاکستان کو ان قرضوں کا سالانہ اربوں کا سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے، شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی سال تک ملک سے قرض کا بوجھ ختم نہیں ہوتا۔
1947 قیام پاکستان کے بعد برطانوی حکومت کی طرف سے خاطرخواہ سرمایہ نہیں دیا گیا اوراس کے علاوہ مقامی پیداواری صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے ملک کی کمزورمعیشت کو چلانے کے لیے مجبوراَ قرض لینا پڑا جو صدر جنرل ایوب خان کے دورتک 50 ملین ڈالر تک تھا، صدر ایوب خان کا دور پاکستان کے سنہری ادوارمیں سے تھا جس میں پاکستان نے کافی ترقی کی کیونکہ قرض کا استعمال صحیح ہواتھا جس کے منافع سے 180 ملین ڈالرقرض ادا کرکے 350 ملین ڈالرکے قرضے میں 170 ملین ڈالر رہ گیا تھا اسی لیے صدر ایوب خان پاکستان پرقرضے کے انبار کے ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دورمیں قرضہ واپس کیا تھا۔ اس کے علاوہ صدر ایوب خان کا دوروہ تھا جس میں پاکستان بھی دوسرے ملکوں کوقرضہ دینے شروع ہوگیا تھا جس کی بڑی مثال آج کی دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جرمنی کی ہے جس کو پاکستان نے قرضہ دیا تھاپھ صدر ایوب خان دورکے بعد ذالفقارعلی بھٹو کے دورمیں 6320 ملین ڈالرتک پہنچ گیا جو یکدم لمبی چھلانگ تھی۔ جس کی اہم وجہ سقوط ڈھاکہ ہے جس سے پاکستان کو بھارت سے جنگ کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تھا، اس کے علاوہ اپ خود اندازہ کرسکتے ہیں پاکستان کی پیداواری ذرائع میں کمی کا سامنا ہوگیا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دوربعد جنرل ضیاءالحق کے حکومت سنبھالنے کے بعد بھی پاکستانی معیشت میں بہتری نہ ہوسکی جس کے سبب پاکستان کا بیرونی قرضہ ڈبل کو 12913 ملین ڈالر تک ہوگیا۔ لیکن اس قرضہ کی اتنی تیزرفتارسے بڑھنے کی وجہ ہے کہ صدرایوب خان کا دورکی طرح قرضہ کا استعمال ہوتا ہوا نظر بھی آیا جس میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام ، چھوٹے ڈیمز،جنگی ہتھیار، صنعتیں وغیرہ نمایاں ہے لیکن ان قرضوں کی واپسی ممکن نہ ہوسکی جس کی وجہ سے جنرل ضیاءالحق کی شہادت کے بعد بینظر بھٹو کے اقتدار سنبھالنے سے اورپھرنوازشریف کی حکومت کے اختتام پریہ قرضہ 39000 ملین ڈالر تک جاپہنچا تھا جو جنرل ضیاءالحق کے دورسے تین گنا زیادہ تھا اس کے برعکس پاکستان معیشت میں بھی خاطرخواہ بہتری نہ ہوئی نوازشریف دورمیں زیادہ توجہ موٹرویز کی طرف رہی جس سے معیشت کوکوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ملکی قرضوں میں اضافہ سے سود کی ادائیگی کے لیے انہی موٹرویز کو گروی رکھوا کراوپرسے اورقرضے لیے گئے۔ پھر جنرل صدر پرویز مشرف کے دور میں صدر ایوب خان کی طرح قرضوں کی واپسی کی گئی جس میں صدر پرویز مشرف نے 5000 ملین ڈالر قرضہ بھی کیا اورملکی معیشت میں بھی بہتری ہوئی صدر پرویزمشرف کے بعد نااہل پیپلزپارٹی نے ماضی کی طرح ملکی معیشت کا کباڑہ کرکے ایک بارپھر قرضوں میں ریکارڈ اضافہ کردیا جس کے مطابق صدرپرویزمشرف کے دورمیں 39000 ملین ڈالرقرضوں میں سے 5000 ملین ڈالرکی ادائیگی سے 34000 ملین ڈالر کے قرضے میں صدر زرداری نے تاریخی 14000 ملین ڈالرکا اضافہ کیا جس سے صاف صاف ثابت ہوتا ہے کہ کرپٹ اورنااہل سیاسی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے ملک کو مقروض کیا ہے لیکن اس کے قرضہ کا صحیح استعمال نہ کرکے معیشت میں بہتری نہ ہوئی بلکہ وہ سود کی آدائیگی سے پہلے سے بھی زیادہ تباہ ہوگئی اسی لیے یہ سیاسی حکمرانوں ہی ذمہ دارہیں۔ 2013 میں نوازشریف نے دوبارہ حکومت حاصل کرنے کے بعد صدر زرداری کے قرضوں کا ریکارڈ توڑ ڈالا جس میں وزیراعظم نوازشریف نے 35000 ملین ڈالرقرضہ لیکرملکی قرضے کو 84000 ملین ڈالرتک پہنچا دیا حسب روایت نوازشریف موٹرویز و بجلی گھروں کا راگ الاپتے رہے لیکن حقیقت چھپا کرعوام کو بیوقوف بنایا اوراپنا ووٹ بنک اورذاتی دولت بناتے رہے ۔
پاکستان پرقرضوں کے انبارکی وجوہات میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ ، نااہل ، کمیشن خور، مفادپرست سیاست دان ہیں جو بڑی بڑی وازتوں پر فائز ہوکر انے خاندانوں و نسلوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرپٹ و کمیشن خوربیوروکریسی کے ساتھ ملی بھگت سے بڑے بڑے قرضے ملکی ترقی کے نام پر لے کربیشتر حصہ اپنے جیبوں میں ڈالتے رہے ہیں اس کے برعکس جب بھی کسی ڈیکٹیٹر نے حکومت سنبھالی تو ملکی قرضوں میں کمی ہوئی یا ملکی قرضوں کا صحیح استعمال ہوتا ہوا نظرآیا ہے اسی لیے میرے نزدیک ڈیکٹیٹرملکی قرضوں کے کسی بھی صورت میں ذمہ دارنہیں ٹھہرتے بلکہ اس کے ذمہ دار صرف سیاست دان ہی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔