تحریر ۔۔ محمد نوید
@naveedofficial_
ہوش سنبھالا توماں کا سہارا ہی پایا
والد کا بس نام سنا تھا تھوڑا بڑا ہوا تو والد صاحب کے بارے علم ہوا پھر ملنے کی اجازت ملی گرمیوں کی چھٹیاں والد صاحب کے ہاں گزارتا تھا لیکن ان سارے دنوں میں والد صاحب اور والدہ کو اکٹھا نہیں دیکھا پوچھنے کی کافی کوشش کی لیکن جواب نہیں ملا سکول میں جاتا تو سب بولتے کہ تمہارے والد صاحب کہاں ہے محلے والے بچے کھیلتے ہوئے پوچھتے تمہارے ابو کہاں ہیں میں کہتا کام پرہوتے ہیں لیکن بڑے تہواروں جیسے عید وغیرہ ہوگئی ان پر بھی والد صاحب میسر نہیں ہوتے تھے یہی وجہ ہے کہ تب سے لے کر آج تک میں بڑے تہواروں پر باہر نہیں نکلتا اور نہ کسی سے ملتا ہوں ایک دن پانچویں کلاس میں بیٹھا تھا کہ خبر ملی کہ آپ کے والد صاحب نہیں رہے ہیں دراصل والد اور والدہ میں علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ ٹی بی کی بیماری تھی والدہ نہیں چاہتی تھی کہ مجھے یہ بیماری بھی لاحق ہو
بچپن سے لے کرآج تک میری ماں نے میرے لئے کیا کچھ نہیں کیا غربت دیکھی لوگوں کی باتیں سنی طعنے سنے حالات بہت مشکل ہوئے فاقوں تک نوبت پہنچی لیکن امی ثابت قدم رہیں میری ہر خواہش پوری کی مجھے پڑھایا لکھایا خود کپڑے سی لیتی گزارا ہوجاتا تھا
کبھی کبھی لڑائی ہوجاتی ہے لیکن ان کے احسان یاد کرکے فورن معافی مانگ لیتا ہوں اب رات ہوتی ہے دن ہوتا ہے یا کوئی بھی وقت والدہ کے پاؤں چومتا ہوں ان سے دعائیں لیتا ہوں کہ اللہ پاک مجھے آپ کا سہارا بنائے رکھے۔
میری ماں میرا حوصلہ
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
