اسلام آباد (آئی پی ایس )آئی پی پیز نے کیپسیٹی چارجز سمیت بجلی کے نرخوں میں کمی سے انکار کر دیا ہے۔ذرائع پیپکونے بتایا کہ آئی پی پیز مالکان نے حکومت کو آگاہ کر دیا کہ معاہدوں سے چھیڑ چھاڑ مہنگی پڑے گی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پہلے اپنے 52فیصد پاور ہاوسز نرخوں میں کمی کرے اور بجلی بلوں پر ناجائز 38فیصد ٹیکسز واپس لے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالکان نے موقف اپنایا کہ دنیا بھر میں ایف بی آر اپنے ٹیکس خود اکٹھا کرتا ہے لیکن یہاں ایف بی آر نا اہل ہے تو اس کی سزا ٹیکس گزار کے بجلی بلوں پر کیوں عائد ہے؟۔ذرائع کے مطابق مالکان کا کہنا ہے حکومت ٹیکس ختم کرے اور اپنے پاور پلانٹس سے بجلی سستی کر کے مذاکرات پر آئے، بجلی کے گھریلو اور کمرشل نرخ اس وقت 60 سے 80 روپے فی یونٹ ہو گئے، یہ نرخ دنیا بھر میں بلند ترین سطح پر ہیں۔ذرائع پیپکو نے کہا کہ اس وجہ سے ٹیکسٹائل، سٹیل، پلاسٹک سمیت ہزاروں صنعتیں بند ہو چکی ہیں، لسیکو کے سسٹم پر گرڈ ایک سال کے مقابلے میں 24 فیصد کم لوڈ پر ہیں۔
