ہومکالم وبلاگزچاند گرہن یا بلڈ مون؟ نظارہ کب ہوگا

چاند گرہن یا بلڈ مون؟ نظارہ کب ہوگا

تحریر امبرین علی
سپرمون کے نظارے کے بعد اب چاند گرہن سترہ ستمبر کو افق پر دیکھا جا سکے گا۔تا ہم یہ سپر مون سے مختلف ہو گا،یہ جزوی چاند گرہن ہو گا۔جبکہ یہ اس سال کا دوسرا چاند گرہن ہے پاکستانی وقت کے مطابق یہ اٹھارہ ستمبر کو دیکھا جا سکے گا۔یہ چاند گرہن امریکا،یورپ کے بیشتر ممالک، آسٹریلیا، افریقا، شمالی اور مشرقی ایشیا میں نظر آئے گا جبکہ پاکستان اور بھارت میں اس کا نظارہ ممکن نہیں ہوگا۔اب بات سمجھنے کی یہ ہے چاند گرہن کو بلڈ مون کیوں کہتے ہیں ایسا نہیں کہ اسمیں خدانخواستہ کوئی خون لگا ہوتا ہے بلکہ کہا جاتا ہے جب چاند زمین کے سائے کے تاریک ترین حصے سے گزر رہا ہوتا ہے اور زمین،سورج اور چاند کے درمیان میں آجاتی ہے تو اس موقع پر چاند گرہن ہوتا ہے۔

سورج کی روشنی جب زمینی فضا میں سے گزرتی ہے تو نیلی روشنی کی نسبت لال رنگ کی روشنی زیادہ مڑ جاتی ہیاور اس وجہ سے گرہن لگنے پر چاند سرخ رنگ کانظر آتا ہے اور اسی وجہ سے اکثراسے بلڈ مون بھی کہاجاتا ہے۔اس سے قبل رواں سال کا پہلا چاندگرہن سال پچیس مارچ کو دیکھا گیایہاں خاص بات یہ ہے کہ پہلا چاند گرہن بھی پاکستان میں نہیں دیکھا گیا تھا اور اب دوسرے چاند گرہن کا نظارہ بھی پاکستان میں نہیں ہو گا۔چاند گرہن کے پینمبرل مرحلے کا آغاز پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق 18 ستمبر کو صبح 5 بج کر 41 منٹ پر شروع ہوگا۔جزوی چاند گرہن کا آغاز صبح 7 بج کر 12 منٹ پر ہوگا اور 7 بج کر 44 منٹ پر عروج پر پہنچے گا، جبکہ اس کا اختتام 8 بج کر 15 منٹ پر ہوگا۔تاہم اگر اسلامک پوائنٹ آف ویو سے بھی دیکھیں تو اللہ نے سورج چاند ستاروں سب کے اوقات کار مقرر کیے گئے قرآن پاک میں بتایا گیا ہے کہ الشمس والقمر بِحسبانOسورج اور چاند معلوم اور مقررہ (فلکیاتی)حسابات کے مطابق (محوِ حرکت)ہیں۔الرحمن، 55: 5 تا ہم چاند گرہن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جس وقت چاند گرہن ہو بہتر یہی ہوتا ہے عبادت کی طرف توجہ دی جائے چاند گرہن کی بھی تین اقسان ہیں جن میں ایک جزوی دوسری خفیف جبکہ تیسری سٹیلر گرہن ہے۔

ناسا کے مطابق مکمل چاند گرہن کبھی کبھار ہی ہوتا ہیلیکن جزوی گرہن سال میں دو مرتبہ ہوتا ہے۔خفیف چاند گرہن کا ذکر کیلینڈر میں عموما کلینڈر میں نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ بہت ہلکا سے ہوتا ہیسٹیلر گرہن عموما ستاروں سے متعلق ہوتا ہے کیونکہ گرہن صرف چاند میں ہی نہیں ستاروں میں بھی ہوتا ہے ہماری کہکشاں میں بہت سے ستارے ہیں ان میں بہت سے ستارے اپنے اپنے مداروں میں گردش کرتے ہیں جو ہماری زمین کی لائن میں آتے ہیں لہذا کسی نہ کسی مدار میں کوئی ستارہ کسی اور ستارے کے آگے آ کر اس کو تاریک کرتا رہتا ہے۔جسے سٹیلر گرہن کہا جاتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔