ہومکالم وبلاگزمون سون اور ہائی الرٹ

مون سون اور ہائی الرٹ

تحریر عنبرین علی


ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکاں ہے کچھ تو خیال کر ۔۔
شعر پڑھتے ہی آپ سوچتے ہوں گے کہ اسلام آباد میں اتنی بارش ہوئی ہے تو شاید میرا شاعری کا دل چاہ رہا ہے ،یا پھر میں احمد فراز کی شاعری کی کتاب کھولے کھڑکی میں بیٹھی چائے کا کپ بارش کے ساتھ انجوائے کر رہی ہوں ،نہیں جناب ایسا بالکل بھی نہیں ،ہم صحافیوں کو اس بارش میں بھی دفتر جانا ہوتا بارش کی اپ ڈیٹ دینا ہوتی بتانا ہوتا کہ کہیں سیلاب کا خطرہ تو نہیں ۔۔
ایسا ہی ہے صبح صبح میری بہن روزینہ نے بتایا کہ باہر تیز بارش ہے دفتر جلدی جانا ہو گا کیونکہ بارش کی اپ ڈیٹ لازمی دینی ہے ،ہم گھر سے نکلے تو دیکھا بارش کافی تیز تھی ،محکمہ موسمیات کی اپ ڈیٹ آئی کہ اکتیس جولائی تک جڑواں شہروں میں بارشوں کا مزید بھی امکان ہے ،ایسے میں سیلاب کا خطرہ بھی بتایا گیا ہے،جبکہ سب سے زیادہ بارش اسوقت شمس آباد میں چھیاسٹھ ملی میٹر ریکارڈ کی جا چکی ہے اسلام آباد میں گولڑہ میں اڑتالیس جبکہ پنڈی میں تریپن ملی میٹر بارش اب تک ریکارڈ کی گئی ہے ۔۔
اب سمجھ آگئی آپکو کہ صبح احمد فراز کا شعرکیوں میرے ذہن میں آیا کیونکہ پنڈی میں متعدد جگہوں پر اسوقت واسا نے الرٹ دیا ہے کہ سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے اگر مزید بارش ہوئی ،ایسے میں پنڈی کے نالے پانی سے فل ہو چکے ہیں ،جڑواں شہریوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کوئی متبادل طریقہ اپنایا نہیں گیا یہی وجہ ہے کہ ہر سال مون سون بارشوں سے نالے فل ہو جاتے ہیں لوگوں کے گھر ڈوب جاتے ہیں اور پھر شہریوں نے بارش کی جتنی دعائیں مانگی ہوتی ہیں ان پر انکو سوچنا پڑ جاتاہے ۔
اسمیں شک نہیں کہ جڑواں شہروں میں بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا ہے اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں بیشتر لوگ سموسے پکوڑے کے ساتھ چائے کا انتظام کریں گے مگر پنڈی کی تنگ گلیوں میں اسوقت پانی جمع ہونے سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں وائپرز ہیں تو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں بالٹیاں ،اور وہ بارش کا پانی نکالنے میں مصروف ہیں ،حکام کو الرٹ جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک قدم آگے ہو کر سوچنا ہو گا ،کہ مون سون میں سیلاب کو کیسے روکا جائے ۔۔۔ اور بارش کا پانی محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہونگے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔