ہومدنیاچین میں 2 بچوں کی پالیسی کا خاتمہ ، جوڑوں کو 3 بچے پیدا کرنے کی اجازت مل گئی

چین میں 2 بچوں کی پالیسی کا خاتمہ ، جوڑوں کو 3 بچے پیدا کرنے کی اجازت مل گئی

بیجنگ،چین نے ملک میں چند سالوں سے نافذ صرف دو بچوں کی پالیسی کا خاتمہ کردیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق چینی حکومت نے 10 سال بعد ہونے والی مردم شماری کے بعد دو بچوں کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے جوڑوں کو تین بچوں کی اجازت دے دی۔چین میں 1960 سے شرح پیدائش میں کم ہو رہی ہے۔ کم ہوتی شرح پیدائش کو روکنے کیلئے2015 میںایک بچہ پالیسی سے پابندی ہٹا لی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود گزشتہ ماہ سب سے کم شرح پیدائش نوٹ کی گئی۔دس سال بعد ہونے والی گزشتہ مردم شماری کے مطابق چین کی آبادی میں سالانہ0.53 فیصد اضافہ ہوا۔ سال2000 تا2010 کے اعدادوشمار کے مطابق چین کی آبادی میں سالانہ0.57 فیصد اضافہ ہوا تھا۔گزشتہ سال تقریبا ایک کروڑ 20 لاکھ بچے پیدا ہوئے جو کہ2016 میں ایک کروڑ 80 لاکھ بچوں کی پیدائش سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ کم ہوتین شرح پیدائش کے سبب مستقبل میں جوانوں سے بوڑھے افراد کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔چین نے اپنے ملک میں آبادی کے کنٹرول کیلئے تقریبا40 سال تکایک بچہ پالیسی کو نافذ رکھا۔ بعد ازاں2 بچوں کی اجازت دینے کے باوجود بھی چینی آبادی میں مسلسل کمی دیکھی گئی۔آبادی میں مسلسل کمی کی ایک وجہ بچے کی پرورش پر آنے والے اخراجات بھی بتائے جاتے ہیں۔ چین میں مسلسل کم ہوتی شرح پیدائش کو دیکھتے ہوئے پیدائش پر کنٹرول کی پالیسیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔