دبئی (سب نیوز)نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غزہ پٹی میں بمباری بند نہ ہوئی تو پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے، پاکستان مسئلہ فلسطین پر دو ریاستی حل کا حامی ہے ، سیاسی، سماجی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے غیر قانونی تارکین کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے ،پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقصان ہوا، یو ایای کے اربوں ڈالر کے اعلان سے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
یہاں منعقدہ کوپ28 کے موقع پر اسکائی نیوز عربیہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ لاس اور ڈیمیج فنڈ کی آپریشنلائزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اخلاقی طور پر اس دلیل کو قبول کیا ہے کہ دنیا کو ان ممالک کی حمایت کرنی چاہیے جو موسمیاتی نقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس بات کی وکالت کرتا رہا ہے کہ جن ممالک نے کاربن کے اخراج میں حصہ نہیں ڈالا لیکن وہ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ان کو ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تخفیف، موسمیاتی موافقت اور کلائمیٹ فنانس حاصل کرنے کی صورت میں معاوضہ دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار امن 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔
نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ان پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہے جن کی ملک نے گزشتہ 50 سالوں سے میزبانی کی ہے تاہم یہ ہمارا قومی فرض ہے کہ دس لاکھ سے زائد غیر دستاویزی اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی نقل و حرکت کو منطقی بنائیں اور منظم کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7 دہائیوں سے حل طلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔
قبل ازیں کوپ کے پاکستان پویلین میں منعقدہ لیونگ انڈس انیشی ایٹو کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دنیا کا آٹھواں ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیونگ انڈس ایک وسیع اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کی حدود میں سندھ کے ماحولیات کو بحال کرنا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی دریائے سندھ کے حوالے سے ترجیحات واضح ہیں۔ یہ اقدام شراکت داروں کے ساتھ وسیع مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے، جو 25 مختلف حکمت عملیوں کا ایک مجموعہ ہے جس میں فطرت پر مبنی حل اور ماحولیاتی نظام سے موافقت کے طریقوں پر زور دیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لیونگ انڈس ایک ایسے اقدام کو متحرک کرنے کی کوشش ہے جو حال اور مستقبل کے لیے ایک صحت مند دریائے سندھ کو تیار اور بحال کرے گااور ہم یہاں تعاون کرنے اور اپنے دریاں کیلئے آواز بلند کرنے کے لیے موجود ہیں۔ صنعت ہمیں پالتی ہے اور اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو یہ ہمارا خیال نہیں رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے تجویز کیا گیاہے کہ ہمیں آئندہ 15 سالوں میں 11 سے 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ پبلک سیکٹر، پرائیویٹ سیکٹر، شہریوں اور کمیونٹیز کو متحرک کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ریچارج پاکستان کا آغاز کیا، جو لیونگ انڈس کی جانب پہلا ٹھوس اقدام ہے۔
نگراں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ تقریبا 78 ملین ڈالر کی بین الاقوامی موسمیاتی فنانسنگ کے ساتھ یہ فلیگ شپ پراجیکٹ مستقبل میں سیلاب اور خشک سالی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہماری کوششوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیونگ انڈس فریم ورک کے تحت ریچارج پاکستان پراجیکٹ نہ صرف ہمارے لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچائے گا بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی اختراع کے لیے ایک ماڈل کے طور پر بھی کام کرے گا۔نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 100 ارب ڈالر کے معاونت کے وعدوں پرفوری عمل درآمدکی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ ترقی پذیرممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات پرعمل درآمدکیلئے اس معاونت کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی کیلئے ترقی یافتہ ممالک کو اپنی اقتصادی حیثیت اورتاریخی ذمہ داری سے ہم آہنگ قائدانہ کرداراداکرتے ہوئے اسی طرح کے اقدامات کیلئے ترقی پذیرممالک کی مدد کرنی چاہئیے۔ وزیراعظم نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے عالمگیراستقامت کے حصول کیلئے موسمیاتی موافقت کے واضح عالمی اہداف واشاریوں بشمول باقاعدہ نگرانی وپیش رفت پرمبنی ایک فریم ورک کی صورت میں نتیجہ کے حصول کی ضرورت ہے۔
