ہومبریکنگ نیوزنواز شریف کو کیوں ہٹایا گیا،سابق پرنسپل سیکرٹری کے اہم انکشافات

نواز شریف کو کیوں ہٹایا گیا،سابق پرنسپل سیکرٹری کے اہم انکشافات

اسلام آباد:وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو تبدیلی پراجیکٹ کے تحت سی پیک کی وجہ سے نکالا گیا۔ پی ٹی آئی رہنما ئو ں کی جانب سے پارٹی کو خیر باد کہنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فواد حسن فواد نے کہا کہ 2018 اور آج کی صورتحال میں جوہری فرق موجود ہے جسے لوگوں کو سمجھانا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ 2018 میں ہم لوگوں پر دبا تھا، نیب کی حراست کے پہلے ہی دن میرے سامنے وارنٹ کے ساتھ ایک صفہ کا بیان رکھ کر کہا گیا کہ ٹی وی پر خبر چل گئی لیکن ہم نے اس کی تصدیق نہیں کی، لہذا آپ اس بیان پر دستخط کرکے چلے جائیں۔فواد حسن فواد نے کہا کہ میں نے نیب کو بیان پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد اس وقت کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو بلا کر مجھے قائل کرنے کی کوشش کی گئی۔

پی ٹی آئی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی پراجیکٹ 2010 سے شروع ہوا جسے پروان چڑھایا گیا اور پھر 2022 میں یہ اپنے انجام کو پہنچا، تحریک انصاف کے پیچھے ریاست کی تمام قوتیں اکھٹی تھیں، البتہ اس متعلق میرا جواب کہیں نشر یا شائع ہونا ممکن نہیں تھا۔وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری نے کہا کہ نیب نے مجھے بار نوٹسز ارسال کیئے میں چاروں بار وہاں پیش کیا، آخری پیشی پر مجھے وارنٹ کی کاپی دکھائی اور مجھے گرفتار کیا گیا، البتہ میں کسی کی تکلیف میں سکون تلاش نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنا انتہائی گری ہوئی حرکت ہے۔

فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے ادارے کیخلاف لوگوں کا اکسانا جرم ہے، ایسے عمل سے دشمن ممالک کی خوشی بھی نظر آ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کی ن لیگ حکومت کو معلوم تھا پراجیکٹ لانچ ہوچکا ہے، وزیراعظم شاہد خاقان کو ایک لسٹ دکھائی گئی کہ یہ لوگ اگلے الیکشن میں آپ کا حصہ نہیں ہوں گے، وزیراعظم نے اس پر حیرانگی کا اظہار کیا، ان لوگوں 35 لوگوں میں 34 پارٹی چھوڑ گئے صرف بہاولپور سے ریاض پیرزادہ نے پارٹی نہیں چھوڑی تھی جب کہ ان میں سے اکثریت ان کی تھی جو آج ایک پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات پر فواد حسن فواد نے کہا کہ یہ واقعات چھوٹے موٹے واقعات نہیں، بہت سے لوگ ان واقعات کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتے، کچھ لوگوں سے میری بات ہوئی جن کا کہنا ہے کہ ان لوگوں سے اس سلسلے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور انہوں نے اس بیانیے کی مخالفت کی تھی لیکن ان کی سنی نہیں گئی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔