پاکستان تحریک انصاف نے اپنے خلاف 9 مئی کی سازش کی ایک اور کوشش بے نقاب کر دی۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جوڈیشل کمپلیکس میں قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد ریکارڈ کی گئی ویڈیو جاری کردی
ویڈیو میں عمران خان کارکنان کو پولیس آپریشن کی آڑ میں اشتعال انگیزی سے متنبہ کر رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں نے یہ ویڈیو 22 مارچ کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں 18 تاریخ کو قتل کی کوشش کے بعد ریکارڈ کی تھی ،
میں نے اپنے پارٹی کارکنوں سے مسلسل کہا ہے کہ جو بھی اشتعال انگیزی ہو انہیں صرف پرامن احتجاج کرنا ہے، انشا اللہ جب بھی آزادانہ انکوائری ہوگی میں یہ ثابت کروں گا کہ جن کے پاس بندوقیں تھیں، جن لوگوں نے آتش زنی کی تھی وہ مظاہرین کے درمیان بالکل ویسے ہی تھے جیسا کہ میں نے اس ویڈیو پیغام میں بتایا ہے، عمران خان نے کہا کہ اب میرے خلاف ایک نیا منصوبہ بنایا گیا ہے، میں اپنی عدلیہ اور خاص طور پر پنجاب پولیس کو بتانا چاہتا ہوں، آئی جی پنجاب، آئی جی اسلام آباد اور انکے ہنڈلرز نے زمان پارک کے باہر آج یا کل آپریشن کی منصوبہ سازی کی ہے، میں بتانا چاہتا ہوں یہ آپریشن کیا ہوگا، آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد نے دو سکواڈ بنائے ہیں، یہ بنائے گئے سکواڈ کا مقصد ہمارے لوگوں اور کارکنان میں انھیں شامل کر کے اپنے ہی پولیس والوں پر گولیاں چلوانی ہیں اور قتل کروانا ہے، عمران خان نے کہا کہ ہمارے کارکنان تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ پولیس والے ہمارے کارکنان میں شامل ہوکر حملہ آور ہونگے گولیاں چلائیں گے، اور ماڈل ٹان کی طرف قتل کریں گے، اور اسی منصوبے کے تحت میرے گھر تک آکر مجھے مرتضی بھٹو کی طرح قتل کرینگے، میں پنجاب پولیس کو بتانا چاہتا ہوں یہ لوگ آپ کے پانچ لوگ قتل کرینگے، اور بہانہ یہ دینگے کے ان پر کارکنان کی جانب سے حملہ کیا گیا، عمران خان نے کہا کہ میں تمام کارکنان کو پہلے بھی تنبہیہ کی اور آج بھی کر رہا ہوں ہم نے کسی بھی قسم کے تصادم میں حصہ نہیں لینا، یہ لوگ جو مرضی کریں ہم نے کچھ نہیں کرنا،پولیس کی جانب سے پتھرا تصادم کرنے اور اشتعال انگیزی کی مذموم کوشش ہے، اگر یہ اشتعال دینے کی کوشش کریں تو آپ نے کسی قسم کا رد عمل نہیں دینا، میرے اوپر کوئی کیس نہیں مجھے سب میں ضمانت مل چکی ہے، اگر پولیس کوئی نیا وارنٹ بھی لے آئے تو میرے پاس لایا جائے، لیکن اگر پھر بھی انکی جانب سے کوئی بھی ایسا منصوبہ بنایا گیا جسکی وجہ سے مجھے جیل میں جانا پڑے تو میں اسکے کے لیے بھی تیار ہوں، کیونکہ میں نہیں چاہتا میرے لوگوں کا. قتل عام ہو، اس لیے میں اپنے تمام کارکنان کو کہنا چاہتا ہوں آپ نے کسی قسم کے تصادم میں نہیں پڑنا، یہ سب انکی منصوبہ بندی ہے جسکے تحت یہ لوگ ماڈل ٹان اور مرتضی بھٹو کی تاریخ دھرا کر میرا قتل کرنا چاہتے ہیں، پہلے انھوں نے میرے خلاف جتنے بھی منصوبے بنائے وہ ناکام ہوگئے اب یہ لوگ انتہا پسندی پر جاچکے ہیں۔
