لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پاکستان تحریک انصاف کی 18 خواتین کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہفتہ کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد نے دائر درخواستوں فیصلہ جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی خواتین کی نظر بندی نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ اگر ڈاکٹر یاسمین راشد کسی مقدمے میں مطلوب نہیں تو رہا کیا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے 12 مئی کو چار مقدمات میں حفاظتی ضمانت ملنے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان آج زمان پارک میں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم مشاورت کر رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اپنے کیسز، گرفتار پارٹی رہنماں اور کارکنان کی رہائی کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیں گے۔
رات گئے زمان پارک پہنچنے کے بعد عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر کارکنان موجود ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم کی سکیورٹی بھی واپس پہنچ گئی ہے۔
عمران خان کی سکیورٹی پر 106 پولیس اہلکار تعینات ہیں جو تین شفٹوں میں ڈیوٹی کریں گے۔
پہلی شفٹ میں 35 اہلکار، دوسری میں 35 جبکہ تیسری شفٹ میں 36 اہلکار تعینات تعینات ہوں گے۔ سکیورٹی اہلکار سول کپڑوں میں ہیں۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ کارکنان کے غم و غصے کی وجہ سے سول کپڑے پہنے ہیں۔
سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ، تشدد اور جلاو گھیراو میں ملوث گرفتار افراد کی تعداد 2829 تک پہنچ گئی ہے۔
پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ اس کے زیراستعمال 72 گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی گئی اور ان کو جلایا گیا۔
آئی جی پنجاب نے کہا ہے کہ جلا گھیرا، تشدد اور املاک نذر آتش کرنے والے شرپسند عناصر کو شناخت کر کے گرفتار کیا جا رہا ہے۔
عدالت کا ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کی گرفتار خواتین کو رہا کرنے کا حکم
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
