وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال ساس کی بات نہ سنیں بلکہ قوم کی بہتری کیفیصلے کریں، چیف جسٹس ایک ہی روز ملک بھرمیں صوبائی،قومی الیکشن کرائیں۔ فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیشہ اپنی ذمے داریوں کو بھرپور انداز سے پورا کیا، فیصل آباد سے 7 بار الیکشن لڑا اور ہر مرتبہ کامیاب ہوا، اسٹیبشلمنٹ اور دیگراداروں نے سازش کر کے بدبخت کو ملک پرمسلط کیا، وہ بدبخت کہنے کو سیاستدان ہے مگر اس میں کوئی ایسی بات نہیں۔ وہ اپوزیشن میں بھی حکومت کے ساتھ بات کرنے کا روادار نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو برداشت اور اس کا احترام کیا جاتا ہے، سیاسی مخالفت کو ذاتی مخالفت بنانے سے معاشرہ نہیں چل سکتا، وہ اپنے لوگوں کو کہتا ہے کوئی مخالف نظر آئے تو اسے گالیاں دو، بدتہذیبی، بے شرمی کا کلچر پروان چڑھانے والا قوم کو کیسے ترقی دے گا؟ اسٹیبشلمنٹ کو معلوم نہیں تھا یہ کیسا آدمی ہے اور اسے ملک پر مسلط کر دیا، کوئی ایک کام بتا دے جو اس نے 4 سال کے دوران ملک میں کیاہو؟
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ بتائے اس نے 4 سال کے دوران کون سا منصوبہ شروع اور مکمل کیا؟ اتحادیوں کے ساتھ چھوڑنے پر عمران کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی، یہ 4 سال کے دوران انتقام اور مخالفین کے خلاف مہم جوئی کرتا رہا، عمران بتائے 4 سال کے دوران کون سی سڑک اور منصوبہ بنایا؟ کہاں ہیں وہ 50 لاکھ گھر جو کہتا تھا غریبوں کو دوں گا؟ایک کروڑنوکریاں کہاں ہیں؟ کن لوگوں کو دی گئی ہیں؟
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کا آئی ایم ایف سے معاہدہ پورا کرتے کرتے ہم یہاں تک پہنچ گئے ہیں، شرائط کے ذریعے بجلی، گیس کی سبسڈی ختم کی گئی، آئی ایم ایف سے شرائط پچھلی حکومت نے طے کیں اور دستخط کیے، آئی ایم ایف کا کہنا ہے معاہدہ ہم نے حکومت سے کیا ہے کسی شخص سینہیں، مجبورا ہمیں آئی ایم ایف سے معاہدے کی تکمیل کرنی پڑی۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کی شرائط پوری ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے سے 10 روز کے دوران آئی ایم ایف سے معاہدہ تکمیل کو پہنچے گا، آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد عام آدمی کی زندگی میں کچھ کمی ہو گی، ایک سال کیدوران ملک کو دیوالیہ سے بچانے کی پریشانی تھی، ایک سال میں اس بدبخت نے ایک ماہ بھی سکون سے نہیں گزارنے دیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان اب کہتا ہے پہلے پنجاب اور پھر پورے ملک میں الیکشن کرادیں، ایک صوبیمیں پہلے، دیگر کے الیکشن بعد میں ہوں تو نتائج کون تسلیم کریگا؟ پنجاب میں ہم نے حکومت بتائی تو یہ نتائج کو تسلیم ہی نہیں کرے گا۔ صاف اور شفاف الیکشن کے نتائج کیا ہوتے ہیں یہ سب کومعلوم ہے، 1977 کا الیکشن متنازع ہوا تو ملک میں فساد اور 11 سال مارشل لا لگا رہا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ بدبخت ملک کو فتنے اور فساد کی طرف لے کر جانا چاہتا ہے، چیف جسٹس کی ساس کی آڈیو چل رہی ہے اور وہ کچھ مطالبہ کررہی ہیں، چیف جسٹس ساس کی بات نہ سنیں بلکہ قوم کی بہتری کے فیصلے کریں، چیف جسٹس ایک ہی روز ملک بھر میں صوبائی، قومی الیکشن کرائیں، ملک میں ایک ہی دن صاف اورشفاف انتخابات کاہوناضروری ہے۔
