اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنیکی عمران خان کی درخواست پر فیصلہ محفوظ سنا دیا۔
آج سماعت سے قبل ہی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث ایک کیس کی سماعت ختم ہونے پر اچانک روسٹرم پر آگئے اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تو آپ کی درخواست فکس نہیں ہوئی، مقرر ہوئی تو دیکھوں گا، اس عدالت نے پہلے ریلیف دیا تھا مگر اس کا کیا ہوا؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہوا، دیکھیں گے اس کیکیا نتائج ہوسکتے ہیں۔عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ درخواست پر 12 بجے سے پہلے سماعت کرلی جائے۔
چیف جسٹس عامرفاروق کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے پہلے ایک راستہ دیا تھا، آپ کا کیس آج اعتراضات کے ساتھ لگا ہوا ہے اسے دیکھیں گے، کیا آپ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کردیے ہیں؟وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عدالت کے سامنے ہے اس پر چیف جسٹس عامرفاروق نیکہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے۔
چیف جسٹس نے رجسٹرار آفس کے دو اعتراضات جوڈیشل سائیڈ پر دورکر دیے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس کے چھوٹے چھوٹے اعتراضات ہیں، میں بائیو میٹرک اور دستخط والا اعتراض دور کر رہا ہوں، ٹکٹوں والا اعتراض ہے، وہ آدھیگھنٹے میں دور کردیں تو سماعت کریں گے۔رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کیے جانیکے بعد سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکلا خواجہ حارث، بیرسٹرگوہر، علی بخاری اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ 13 مارچ کے آرڈر کو چیلنج کیا ہے، اس سے پہلے عدالت نے ٹرائل کورٹ سے وارنٹ کے اجرا کو معطل کیا تھا، عدالت نے عمران خان کو 13 مارچ کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی تھی، 13 مارچ کو پٹیشنر عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوسکے۔
چیف جسٹس کے استفسار پر خواجہ حارث نے بتایا کہ عمران خان اس روز گھر پر تھے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وارنٹ دوبارہ جاری ہونیکا ایشو نہیں، عدالت نے کہا تھا 13 مارچ کو پیش ہوں ورنہ وارنٹ بحال ہوجائیگا۔وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ یہ شکایت غلط طریقے سے دائر کی گئی، متعلقہ افسر شکایت دائرکرنیکا مجاز نہ تھا، قانون کے مطابق الیکشن کمیشن شکایت دائرکرسکتا ہے، قانونی تقاضے پورے نہیں کییگئے، اس صورت میں وارنٹ جاری کرنیکی کارروائی بھی درست نہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی کریمنل کیس میں سمن جاری ہو تو کیا عدالت پیش ہونا ضروری نہیں؟ عدالت میں پیش ہونا پھر بھی ضروری تھا۔ عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت افسوسناک ہے، عمران خان نے انڈر ٹیکنگ دی ہے کہ آئندہ سماعت پر پیش ہوجائیں گے، وارنٹ کا اجرا بھی صرف عدالت میں حاضری کے لیے ہے۔
