اسلام آباد :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں تین سو خواتین اساتذہ کا ڈپوٹیشن پر کام کرنے کا معاملہ پر اگلے اجلاس میں تفصیلات طلب کر لی جبکہ نیشنل سکل یونیورسٹی خالی کرنے کے معاملے پر ڈی سی مرید کے کی عدم مو جودگی پر نوٹس جاری کرنے کی سفارش کر دی کمیٹی کا اجلاس منگل کو چیئر مین مخدوم سمیع الحسن کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا اجلاس میں اراکین کمیٹی کے علاوہ وزارت کے اعلی حکام ایف ڈی ای اور نیشنل سکل یونیورسٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اجلاس میں 300 ڈیبوٹیشن خواتین اساتذہ کے معاملے پر ایف ڈی ای نے کہا کہ ہم آئندہ اجلاس میں اساتذہ کی تعداد کتنی ہے اور کتنے عرصے سے کام کررہی ہیں جواب جمع کرا دیں گے جس پر رکن کمیٹی حامد حمید نے کہا کہ کوئی اندازہ تو ہوگا کہ خواتین اساتذہ کتنے عرصے سے کام کررہی ہیں اس پر ڈی جی ایف ڈی ای نے کہا کہ پوری تعداد کے ساتھ کمیٹی کو جمع کروا دیں گے اسپر حامد حمید نے کہا کہ اسے آئندہ اجلاس میں دوبارہ ایجنڈے پر لائیں، نیشنل سکل یونیورسٹی مریدکے کیمپس کو خالی کرائے جانے کے معاملہ پر ڈی پی او مریدکے اور وائس چانسلر مختار احمد اجلاس میں شریک ہوئے یونیورسٹی حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ رات دس بجے ہمارا سامان اٹھا کر باہر رکھ دیا گیا،ہم نے مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کیا تاہم حکام کی طرف سے دلچسپی نہیں دیکھائی گئی،اس پر کمیٹی نے ڈی پی او کو مخاطب کر تے ہوئے معاملے پر نوٹس لینے کا جواب طلب کیا جس پر ڈی پی او مرید کے نے کہا کہ اس معاملے کو ڈی سی مرید کے دیکھ رہے ہیں ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے جس پر کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر مرید کے کو عدم حاضر ی پر اظہار ناراضگی کا نوٹس جاری کردیا اور معاملے کو اجلاس تک موخر کر دیا
قائمہ کمیٹی تعلیم نے ایف ڈی ای میں ڈیپوٹیشن پر کام کرنے والی خواتین استاتذہ کی تفصیلات طلب کر لیں
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
