ہومتازہ ترینجنوبی خیبرپختونخوا سے مزید ایک پولیو کیس کی تصدیق

جنوبی خیبرپختونخوا سے مزید ایک پولیو کیس کی تصدیق

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس سے مزید ایک بچے کی معذوری کی تصدیق ہوئی ہے۔
چھ ماہ کے بچے کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے۔ پولیو کیس کی تصدیق پاکستان پولیو لیبارٹری، قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے کی ہے۔ رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 19 ہوگئی ہے، جن میں 2 کیسز لکی مروت، 16 کیسز شمالی وزیرستان اور ایک کیس جنوبی وزیرستان سے رپورٹ ہوا ہے۔ رواں برس جنوبی وزیرستان سے پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے اس سے قبل جنوبی وزیرستان سے جون 2020 میں پولیو کیس رپورٹ ہوا تھا۔
جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس پر قابو پانا پاکستان پولیو پروگرام کی ترجیح ہے۔ نئی حکمت عملی کے تحت بچوں کو ٹیکوں کے ذریعے پولیوویکسین دی جارہی ہے جو لوگوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہے۔ اس کے علاوہ ویکسین شدہ بچوں کو صابن دیا جارہا ہیاور ان علاقوں میں وائرس کی نگرانی کا نظام مزید مثر بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ “حالیہ سیلاب سے بحرانی صورتحال کا سامنا ہے۔ لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہونے سے ان گنت چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے سے پولیو وائرس کے پھیلا کا خدشہ ہے جس سے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے”۔
وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر فخر عالم نے کہا کہ “پروگرام کے لئے وائرس کا پھیلا تشویش کا باعث ہے۔ رسک کو جتنا ہوسکے کم کرنے کے کے لئے ہم ہیلتھ کیمپس میں بچوں تک ویکسین کی رسائی ممکن بنا رہے ہیں۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی مثر ویکسینیشن کے لئے سرگرم عمل ہیں”۔
بارشوں اور سیلاب کے باوجود پروگرام نے اگست میں پولیو مہم جاری رکھی اور جن علاقوں تک رسائی ممکن ہوئی وہاں پر بچوں کی ویکسینیشن کا ہدف حاصل کیا۔ سیلاب کے باعث صوبہ بلوچستان اور سندھ کے 23 اضلاع میں مہم نہیں ہوئی تاہم اگست پولیو مہم میں 33 ملین بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلوانے کا ہدف حاصل کیا۔ اگلی پولیو مہم اکتوبر میں ہوگی۔
نوٹ برائے ایڈیٹر:
پولیو سے پانچ سال تک کے عمر کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچے عمر بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ بچوں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس موذی مرض سے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلوا کر چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو قطرے پلوا کر اس موذی وائرس کو پھیلنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ بار بار پولیو قطرے پلوانے سے دنیا کے تمام ممالک پولیو سے پاک ہو چکے ہیں۔ انسداد پولیو مہم میں بڑھ چڑھ حصہ لینا ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔