ہومبریکنگ نیوزنیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 162 افراد ہلاک، سینکڑوں تاحال لاپتہ

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کم از کم 162 افراد ہلاک، سینکڑوں تاحال لاپتہ

نیپال اور تبت کی سرحد پر آئے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کو تقریباً 24 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی ہے۔
نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 162 ہو گئی ہے۔ پولیس نے جمعرات کی صبح جاری ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں۔ بیان کے مطابق اب بھی لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 403 افراد لاپتہ اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں، اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق انڈیا سے ہے۔
فضا سے لی گئی تصاویر میں نیپال کے ضلع رسووا میں واقع بھوٹے کوشی دریا کے علاقے میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق پورا ملک صدمے میں ہے۔ بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔
اچانک آنے والے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً آٹھ ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ امریکہ، چین، یورپی یونین اور انڈیا ان ممالک میں شامل ہیں جنھوں نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور ’گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ‘ نے اس زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
ماہرین اب بھی واقعات کی پوری ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے بعض علاقوں میں گلیشیئرز کے زیادہ تیزی سے پگھلنے کا سبب بن رہی ہے، تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں موسمیاتی تبدیلی کے کردار کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔