یاسین(فضل احمد) یاسین میں سندی موڈوری سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمنارکا انعقاد کیا گیا جس میں یاسین میں ماحولیاتی آلودگی اور آزاد چرائی کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔
سیمنارمیں اسسٹنٹ کمشنریاسین اقبال جان،ریٹائرڈ کرنل بی این شاہ ، الواعظ اقبال خان،ہیڈ ماسٹر منظور حسین اور دیگر معزیز مہمانوں نے شرکت کی سیمنارمیں شرکاء نے ماحولیاتی آلودگی اور آزاد چرائی پر اپنے خیالات سے اگاہ کیا سیمنارسے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر اقبال جان نے کہا کہ موڈوری سوشل ویلفیئرکا یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ اس پیلٹ فارم کے تحت ایک اہم موضوع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کسی بھی کام کرنے سے پہلے قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے اس کے بعد سرکاری اور نجی ادارے خود مدد کرنے میں آگے بڑھتی ہے۔
حالیہ بارشوں سے تباہی کے بعد تمام ڈیٹا متعلقہ محکموں کو حوالہ کیاگیا ہے عوام کو جلد ریلیف مل جائے گی۔ آزاد چرائی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے اےسی اقبال جان نے کہا کہ بحثیت انسان ہمیں خود اپنے جانوروں کو بند کرنا ہوگا کسی سزا یا جرمان کا انتظار نہ کرے۔ آزاد چرائی سے پورے علاقے کو فائدہ ہوگا ہم اپنے پھل فروٹ اور سبزیوں سے لاکھوں کماسکتے ہیں اس لیے پھل دار درخت پودوں کی حفاظت ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک قانونی طور پر مارخور کے شکار سے علاقے کو ستر فیصد روینیو مل سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئے روز کے کھیلوں سے لوگ تنگ آچکے ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بےجا آزادی نہ دے اس وقت مختلف تعلیمی اداروں میں امتحانات شروع ہوچکے ہیں کھیل کود میں ٹائم ضیاع کرنا افسوسناک ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سندھی میں بہت جلد فور جی کا آغاذ ہوگا معاملات حتمی مراحل میں ہے۔ سندھی میں ایک گراٶنڈ کیلئے بات ہوچکی ہے۔ گندم کے ایشو پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گندم کا معاملہ جلد حل ہوگا حالیہ بارشوں کے بعد جگہ جگہ روڈ کیلیئر نہیں ہےاس وجہ سے گندم کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔
واضح رہے کہ سندھی موڈوری آرگنائزیشن کےزیر اہتمام اس پروگرام کا مقصد نہ صرف ماحول کی آلودگی اور آزاد چرائی ہے بلکہ اس آرگنائزیشن کا کام نگرانی بھی ہے جس میں منشیات کی روک تھام سرکاری کاموں کی نگرانی ماحولیاتی درستی اور ہر قسم کے منفی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔
اس آرگنائزیشن کے تحت علاقے میں صفائی ستھرائی کیلئے کچرا اٹھانےکی گاڑی اور 15 ڈسبین خریدا گیا ہے جس میں ایکس سولجرز نے 100 روپے چندہ نکال کر یہ منصوبہ کامیاب بنایا جوکہ غوجلتی سے سندھی آخر تک لگائے جائیں گے اور عوام سے پلاسٹک کچرا زمنیوں اور پانی میں پھینکنے کے بجائے ڈسبین میں ڈالنے کی تلقین کی گئی ہے اس سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیر انتظام اس وقت موڈوری سوسائٹی، انورمنٹل پروڈیکٹیو اور پانچ تنظیمات بھی چل رہی ہیں جو کہ کامیابی سے رواں دواں ہیں۔
