واشنگٹن /تہران (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کا نقشہ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے اسے نیا امریکی علاقہ قرار دے دیا، جس پر ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اپنا رویہ درست کیے بغیر آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو دائرے میں نمایاں کرکے نیا امریکی علاقہ لکھا گیا تھا۔ ٹرمپ نے 18 اگست کو بھی یہی نقشہ شیئر کیا تھا۔
امریکی صدر نے اس سے قبل 15 اگست کو نیویارک میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکا کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ کا دعوی ہے کہ امریکا کو آبنائے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریبا پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی تھیں۔ ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کا اعلان کیا اور جہازوں کے لیے اجازت اور ٹرانزٹ فیس کی شرط عائد کی ہے۔ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے ہفتے کو کہا کہ آبنائے ہرمز امریکی دعوئوں کے باوجود بند ہے اور اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک امریکا اپنا رویہ درست نہیں کرتا اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔
رضائی نے امریکا کی معاشی پابندیوں میں تعاون کرنے والے ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران انہیں دشمن تصور کرے گا اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اب تک صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اگر واشنگٹن نے ایرانی معیشت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں تو خطے اور دیگر مقامات پر موجود امریکی تیل و معاشی مفادات کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورت میں ایران کا ردعمل زلزلے جیسا ہوگا۔
