اسلام آباد-ترجمان واپڈا نے چینی کمپنی کی جانب سے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مرمت کا کام ترک کرنے کے حوالے سے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کی سختی سے تردید کی ہے اور اسے من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ چینی کمپنی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مرمت کیلئے تمام سائٹس پر مسلسل اور بلا تعطل کام کر رہی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دو چینی کمپنیوں سی جی جی سی (CGGC)او ر سی ایم ای سی (CMEC)پر مشتمل جوائنٹ ونچر نے 2018 میں مکمل کیا تھا۔ 6جولائی کو ٹیل ریس کی بندش کے واقعہ سے قبل یہ منصوبہ تسلی بخش طور پر کام کر رہا تھا اور تکمیل کے بعد منصوبے سے نیشنل گرڈ کو 18ارب 28کروڑ یونٹ پن بجلی مہیا کی جا چکی تھی۔ 6 جولائی کو ٹیل ریس ٹنل میں بندش کی وجہ سے پاور سٹرکچر اور دیگر آلات کی حفاظت کے لئے پاور سٹیشن کو بند کر دیا گیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ مذکورہ واقعہ کے فوری بعد منصوبے کے سول ورکس سر انجام دینے والی چینی کمپنی سی جی جی سی سے مرمت کے لئے رابطہ کیا گیا،جس کے بعد چینی کمپنی فوری طور پر سائٹ پر پہنچی۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی مرمت کے لئے معاہدہ کیا گیااور چینی کمپنی سائٹ پر بلا تعطل کام کر رہی ہے۔ ٹیل ریس ٹنل کی بحالی کا کام شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ کام فروری 2023 میں مکمل ہو جائے گا۔ ترجمان نے کہا ہے کہ چینی کمپنی کی سکیورٹی کے لئے مطلوبہ اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں اور نیلم جہلم پراجیکٹ پر سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
نیلم جہلم پروجیکٹ پر کام روکنے کے حوالے سے واپڈا کی تردید
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
