تحریر: غلام مصطفی بلوچ ایڈووکیٹ
میرا دل دو دن سے ملکی حالات کے پیش نظر جس اضطرابی اور ہیجانی کیفیت سے دوچار تھا۔ایسی کیفیت پر اللہ پاک کی برگذیدہ اور ہدایت یافتہ ہستیاں فرما گئ ہیں کہ اس کیفیت میں مبتلا شخص کو دل کی شائستگی اور سکون کے لیے کسی نیک بزرگ کی روحانی درگاہ کا رخ کرنا چاہیے یا ایسے حالات میں کسی ایسے بزرگ کی تلاش میں نکل جانا چاہیے جو اللہ پاک کے خاص کرم اور سرکار مدینہ کی نگاہ رحمت سے عطا کیے گئے وجد کی منزل پر پرواز کر رہا ھو تو اس کیفیت میں لازمی ان کے پہلو میں جا کر کچھ وقت گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔تاکہ اسے روحانی سکون حاصل ہو سکے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ھے میں ہدایت ان کو عطا کرتا ھوں جسکی وہ طلب اور تلاش کرتے ہیں ۔ اسی مضطرب کیفیت میں کھلی اور صاف شفاف ٹھنڈی ہوائیں لینے کی خواہش نے مجھے واک کے لیے مجبور کیا اور میں نے ایف نائن پارک اسلام آباد کا رخ کیا۔ کچھ ٹائم واک کرنے کے بعد میں ایک بنچ پر آرام کرنے کے لیے بیٹھ گیا اور اپنے موبائل فون سے ٹویٹر، وٹس ایپ اور فیس بک سے جو وفاق اور پنجاب میں ایک سیاسی اور آئینی بحران شدت اختیار کر چکا تھا اس کے حوالے سے اپ ڈیٹ لینے کی کوشش کر رھا تھا کہ اسی اثنا میں ایک سفید ریش بزرگ بھی شاہد واک کی تھکاوٹ کے سبب وہ بھی میرے ساتھ اس بنچ پر آکر بیٹھ گۓ میں عمران خان صاحب کی پریس کانفرنس موبائل فون پر سن رہا تھا اور اس میں انہوں نے جب 25 مئی کی کال لانگ مارچ کے حوالے سے دینے کا اعلان کیا تو میری زبان سے بے ساختہ الفاظ عمران خان صاحب سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے نکلے کہ اے اللہ پاک سرکار مدینہ کے صدقے خان صاحب کو اس حقیقی آزادی کی جدوجہد اور مشن پر نصرت و کامیابی عطا کرنا اور ان کی زندگی کی حفاظت فرمانا۔ میرے یہ الفاظ سن کر سفید ریش بزرگ کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ نمودار ھوئی لیکن ساتھ ساتھ بدستور خاموشی بھی اسی طرح تھی۔ ان کی مسکراہٹ سے فائدہ اٹھاتے ھوے میں نے جسارت کرتے ھوے انہیں ادب بھرے لہجے میں کہا کہ آپ نیک انسان ہیں میرے ارض پاک پر یہ مشکل وقت ھے دعا کریں قائد اعظم ثانی عمران خان کی قیادت میں ہم اس بحران سے نکل کر غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر حقیقی آزادی جیسی نعمت سے استفادہ حاصل کر سکیں ۔ اس بزرگ نے کہا کہ بیٹے ھم پر کوئی مشکل وقت نہیں ھے بلکہ تاریخ میں پہلی دفعہ اچھا وقت نصیب ھوا ھے ہماری اسٹیبلشمنٹ اس ملک کی طاقت اور اثاثہ ھے اس قوم کا فخر ھے جن کا ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ اس ملک کی بقا ، حفاظت، سالمیت، قدرو منزلت، ترقی و خوشحالی، اور ایک آزاد خودمختار و خودار اور اسکی خودمختاری کے حصول کی جنگ 70 سال سے اس دنیا میں پاکستان دشمن طاقتوں کے ساتھ داخلہ اور خارجہ محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس محب الوطن ادارے کے حوالے سے آج ھم سب من حیث الا قوم کو بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کا شکارکیے جانے کی کوشش کی جا رہی ھے اور اس کا الزام اور ملبہ عمران خان پر ڈالنے کی جامع منصوبہ بندی کچھ مافیاز کی جانب سے ھو رہی ھے۔ جبکہ اصل اس کے پیچھے اندرونی اور بیرونی مافیاز سرگرم ہیں اور اس کے متعلق ہمارے ادارے بخوبی اگاہ ہیں ۔ بزرگ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بیٹا عمران خان صاحب اور اسٹیبلشمنٹ آج بھی ایک پیج پر ہیں ۔ دونوں کا خواب اور مقصد ایک ھے۔ دونوں محب الوطن ہیں ۔ دونوں کا اصل حدف اور مقصد حقیقی آزادی اور امریکہ کے چنگل سے ہمیشہ کیلئے نکل کر تمام دنیا سے آزاد تجارت اور ملک کی معیشت کو مضبوط کرنا ھے۔ سامراجی طاقت دوست کی شکل میں ایک شاطر اور خطرناک دشمن ھے۔ ہمارے ملک کی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بدقسمتی سے کرپشن اور لوٹ مار کے پیسے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں پڑے ہیں ۔ جسکی وجہ سے اس شاطر دشمن نے ان لیڈران کو ایک خوف میں مبتلا کرکے ان سے آزاد فیصلے کرنے کی طاقت پچاس سال سے اس نے سلب کر لی ھے۔ اپنے ملک سے بے پناہ محبت اور اپنا خون دینے والے اداروں نے سر جھوڑ کر جب مشاورت کی کہ کس طرح سامراج سے آزادی حاصل کی جائے۔ تو سیاسی لیڈر شپ میں سے صرف واحد ایک عمران خان دیانتدار، دلیر، عوام میں بے پناہ پذیرائی، کرپشن سے پاک کی رپورٹس پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے موصول ھوئی کہ اس سے بہتر لیڈر اس قوم اور اس ملک کو میسر نہیں ھو گا ۔ امریکہ نے ہمیشہ ہمارے اپنے گھر کے لوگوں کو مہرہ بنا کر ہمیں غلامی کی زنجیروں میں پابند سلاسل پچاس سال سے کرکے رکھا ھوا ھے اور ان کی مدد سے عرصہ دراز سے ہماری خارجہ پالیسی پر قبضہ جماے ھوے ھے۔ لیکن اس دفعہ نام نہاد سپر پاور مراسلہ جاری کرکے خود پھنس گیا ھے ۔ اور ہمارے اداروں کو یہ موقع مل گیا ھے کہ اندرونی سہولت کار میر جعفر اور میر صادق اور ان کے آقا امریکہ کی اس مراسلہ والی غلطی کا فائدہ اٹھاتے ھوے اس کی ڈومور جیسی بلیک میلنگ اور ڈکٹیشن، دھونس دھمکی سے ہمیشہ کیلئےچھٹکارہ حاصل کیا جا سکے ۔ محترم بزرگ نے چہرے پر دھیمی مسکراہٹ لیتے ھوے کہا کہ جسے آج تم سب ندوش خاموش الفاظوں میں اپنی ڈرائنگ روم کی محفلوں میں بیٹھ کر جن کو ٹھہرا رہے ھو۔ انہوں نے ہی تو امریکیوں اور اس ملک کے کرپٹ ترین مافیاز کا اصل اور بھیانک چہرہ اور کردار پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ھے ۔ یہ مافیاز اگر حکومت کو طوالت دیتے ہیں تو مہنگائی کی وجہ سے عوام گندے انڈے ماریں گیں ۔ حکومت چھوڑتے ہیں تو عمران خان دو تہائی اکثریت سے اسمبلی میں آتا ھے۔ تو اب مجھے بتاو بیٹے اس میں کون جیتا ھے ۔ تو اس کا ایک ھی جواب ہے کہ پاکستان جیت گیا ھے۔ پاکستان کا دفاع اور اس پر جان نثار کرنے والے جیت گئے ہیں۔ پاکستان کی عوام کا ہر دلعزیز لیڈر جیت گیا ھے ۔ پاکستان کا وقار جیتا ھے بیٹے دیکھ لینا عوام کا سمندر امڈ آے گا۔ لانگ مارچ آے گا مزاحمت اور رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ عوام کو میڈیا کے ذریعے سے ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت خوف و حراسمنٹ کی مہم چلائی جائے گیں۔ گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گیں۔ خوف اور ڈر کی اتنی شدید بذریعہ میڈیا کمپین پری پلان چلائی جائے گیں تاکہ عام شہری، سول سوسائٹی، آفیسرز اور بزنس کلاس فیمیلیز کو اس حقیقی آزادی کے لانگ مارچ کا حصہ بننے سے روکا جا سکیں۔ مقتدر طاقتوں کی طرف سے تشدد کی اجازت رانا صاحب کو نہیں دی جائے گی۔ عوام کا سمندر دیکھ کر ہر لمحہ حالات کے پیش رو فیصلوں پر نظر ثانی اور تبدیلیاں ساتھ ساتھ ہوتی جائیں گیں۔ یہ بھی ممکن ھے اسلام آباد فوج کے حوالے بھی کیا جا سکتا ھے۔ آخر کار معاملات چلتے چلتے عدالت عظمی تک جائیں گے ۔ کمزور معیشت کے سبب اکانومسٹ پر مبنی ایک نگران سیٹ اپ کا آپشن بھی گیارہ جماعتوں کی طرف سے بطور تجویز دیا جاے گا جس کا دورانیہ اگست 2023 تک کہا جائے گا ۔ لیکن عمران خان صاحب اپنی پاکستانی عوام کے جم غفیر کی طاقت سے اس فارمولے کو ریجیکٹ کر دے گا اور بالآخر حکومت کو اکتوبر میں الیکشن کروانے پر مجبور کر دےگا اور اس میں مقتدر طاقتوں کا کردار بھی اس میں شامل ھو گا اور پاکستان میں قومی اور صوبائی الیکشن کا انعقاد کا اعلان ھوگا۔ اور یہ سب اتنی تیزی سے ھو جائے گا کہ 15 جون سے پہلے تک ملک کی صورتحال اور فضا اپنی جگہ پر آجائے گی۔ بزرگ نے اٹھتے ھوے کہا کہ ملک کے حالات پہلے دن سے ملک کی حفاظت کرنے والے اداروں کے کنٹرول میں تھے۔ وہ آج بھی مضبوط ہیں وہ کل بھی مضبوط تھے۔ وہ آج بھی اس قوم کا فخر اور اسکی امید ہیں۔ انہیں ہمیشہ سے اس ملک کے سیاستدانوں میں سے ایک دلیر، نڈر، دیانتدار، باکمال لیڈر کی تلاش رہی ھے اور وہ قیادت انہیں عمران خان صاحب کی شکل میں مل گئی ھے۔ الیکشن کے بعد دو تہائی اکثریت سے عوام کے ووٹوں سے دوبارہ خان صاحب آئیں گے اور وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور 22 کروڑ عوام کی طاقت اور اخلاقی سپورٹ سے یہ ملک پوری دنیا سے عمران خان صاحب کی قیادت میں بہت جلد آزاد تجارت کرے گا اور 2030 تک پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل تصور کیا جائے گا۔ آئندہ امریکہ کی بلیک میلنگ اور دھمکی کا جواب اس عذر کے ساتھ پیش کیا جائے گا کہ عمران خان کے پیچھے عوام کی طاقت ھے۔ مراسلہ کے ذریعے ان کی حکومت کو ہٹانے کا فارمولا پہلے ھی آزمایا جا چکا ھے ۔ لیکن وہ بری طرح ناکام رہا ھے۔ برابری کی سطح پر دوستی اور پوری دنیا سے آزاد تجارت عمران خان صاحب کی حکومت کی پالیسی ھے۔ اور اس طرح سے امریکہ کی بلیک میلنگ اور دھمکیوں سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے گا۔ اور آخری الفاظ بزرگ کے میرے روح اور دل کا بوجھ بھی ہلکا کر گئے۔ انہوں نے کہا بیٹے بے جاخواہشات کا جنون اور اپنی مرضی اور منشا کے مطابق فیصلوں کی تمنا کرنا اللہ پاک کے اختیارات میں مداخلت ھوتی ھے جس سے دل میں بے سکونی اور روح پر بوجھ بڑھ جاتا ھے۔ ہر حالت میں صبر اور شکر کرنے والے انسان کو ہمیشہ سکون اور کامیابی اس کا مقدر ہوتی ھے۔ میں نے کہا بزرگوں جاتے جاتے اپنا نام تو بتاتے جائیں ۔ تو انہوں نے کہا جب میرے الفاظ اور باتیں یاد آئیں تو یہ دل اور ذہن میں تصور کر لینا کہ وہ ایک سچا پاکستانی اور سرکار مدینہ کے دروازے کا گداگر تھا۔
دیانتدار قیادت
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
