بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے پاکستان کا تیل اوراشیائے خورد ونوش کی مد میں درآمدی بل حد سے تجاوزکرگیا ہے۔
وقافی ادارہ برائے شماریات کے اعداد و شمارر سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ رواں مالی کے ابتدائی دس ماہ درآمدی بل میں 58 اعشاریہ 98 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ جو ہندسوں میں 24 ارب 77 کروڑ ڈالر بنتا ہے۔ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمارسے ظاہرہوتا ہے کہ جولائی تا اپریل میں درآمدی بل 46 اعشاریہ 51 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر65 ارب 53 کروڑڈالرتک پہنچ گئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 44ارب 73 کروڑ ڈالر پر تھے۔ مجموعی طورپراس مد میں37 اعشاریہ 79 فیصد اضافہ ہوا جو 24 ارب 77 کروڑ ڈالربنتے ہیں۔ صرف اشیائے خورد ونوش اورتوانائی کے شعبوں کے درآمدی بل تجارتی خسارے کی اہم وجہ اور حکومت پربیرونی دبابھی ڈال رہے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اس مالی سال کے دس ماہ میں صرف تیل کے درآمدی بلوں میں 95 اعشاریہ 84 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں تیل کا درآمدی بل 8 ارب 69 کروڑ تھا، جو بڑھ کر 17 ارب 3 کروڑ پر پہنچ گیا ہے۔درآمدی بل میں اضافے کا اہم سبب بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں قیمتوں کے لحاظ سے 121 اعشاریہ 15 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 24 اعشاریہ 17 فیصد اضافہ ہوا۔خام تیل کی درآمدی قدر میں 75 اعشاریہ 34 فیصد اورمقدارمیں 1 اعشاریہ 36 فیصد اضافہ ہوا۔غذائی پیداوارمیں فرق کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیا کا درآمدی بل 12 اعشاریہ 30 فیصد اضافے کے ساتھ 7 ارب 74 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا، گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 6 ارب 89 کروڑڈالرتھا۔آنے والے مہنیوں میں اس درآمدی بل میں مزید اضافہ ہوگا، کیوں کہ حکومت نے صفراعشاریہ 6 ٹن شکراور4 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اشیائے خوردونوش میں گندم، شکرخوردنی تیل، مصالحہ جات، چائے اوردیگراہم اشیا کی وجہ سے درآمدی بلوں پردبابڑھا ہے
۔ جب کہ خوردنی تیل میں مقداراورقدردونوں کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔دنیا بھرمیں خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ جولائی تا اپریل کے دوران پام آئل کے بل میں 44 اعشاریہ 64 فیصد اضافہ ہوا اور اس عرصے میں 3 ارب 9 کروڑ ڈالرکا پام آئل منگوایا گیا۔ جب کہ مالی سال 2021 کے دس ماہ میں یہ 2 ارب 14 کروڑ ڈالرتھی۔جس کے نتیجے میں پاکستان میں کھانے کے تیل اورگھی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ چینی کی درآمد میں 49 اعشاریہ 52 فیصد اضافے کے ساتھ 311،851 ٹن رہی جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 280،377 ٹن تھی۔مشینوں کے درآمدی بل 20اعشاریہ 49 فیصد اضافے کے ساتھ 9 ارب 55 کروڑ ڈالر پر پہنچ گئے ، مالی سال 2021 کے ابتدائی دس ماہ میں یہ 7 ارب 92 کروڑ ڈالر پر تھے۔موبائل فون کے درآمدی بلوں میں 7 اعشاریہ 43 اضافہ ہوا اورابتدائی دس ماہ میں درآمدی بل ایک ارب 81 کروڑڈالررہا جب کہ موبائل فون ایسیریز اورآلات کے درآمدی بل 39 اعشاریہ 87 فیصد اضافے کے ساتھ 603 ملین ڈالرسے زائد رہے۔
