ہومتازہ ترینامریکی فوج کا ایران پر حملوں کا مرحلہ مکمل کرنیکا اعلان

امریکی فوج کا ایران پر حملوں کا مرحلہ مکمل کرنیکا اعلان

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ امریکی افواج نے یکم ستمبر کو ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کا تازہ مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے فضائی دفاعی مراکز، ریڈار نظام، بحری تنصیبات اور اثاثوں، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور امریکی فوجیوں کے خلاف پاسداران انقلاب کی حالیہ مبینہ حملہ آور کارروائیوں کے بعد کی گئی ہیں۔
سینٹ کام نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں، جو چوکس ہیں اور امریکی کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر مزید کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
اس اعلان سے ایک روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ایک مرتبہ پھر شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جبکہ واشنگٹن نے مزید تباہ کن حملوں کی دھمکی دی تھی۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 سالہ بچہ بھی شامل ہے، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے ایک صوبائی عہدیدار کے حوالے سے زخمیوں کی تعداد 68 بتائی ہے۔
دوسری جانب ایرانی ریڈ کریسنٹ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقے میں ایک شادی کی تقریب پر حملہ کیا جس میں ایک بچے سمیت 5 افراد جاں بحق اور 50 زخمی ہوئے۔ حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران نے ان ‘وحشیانہ جرائم’ کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق یک ستمبر کو ملک بھر میں متعدد مقامات پر حملے کیے گئے، جن میں زیادہ تر آبنائے ہرمز کے قریب واقع علاقے شامل تھے۔ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے اجازت کے بغیر گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو دھمکیاں دیتا رہا ہے۔
ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی حملے کیے گئے۔ پاسداران انقلاب نے اردن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم امریکی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی مسلح افواج کے مطابق اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں میں سے 10 کو مار گرایا، جبکہ 3 دور دراز علاقوں میں گرے۔ بحرین نے بھی ایرانی ڈرونز کو روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
پاسداران انقلاب نے یہ بھی کہا کہ اس کی زمینی افواج نے شمالی عراق کے شہر اربیل میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم عراق اور امریکا نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
فائرنگ کا یہ تبادلہ جولائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی بڑی فوجی کارروائی ہے۔ اس سے قبل ایک وقفے کے دوران دونوں جانب سے حملے روک دیے گئے تھے، تاہم مذاکرات کی بحالی کے بھی کوئی نمایاں آثار نظر نہیں آئے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو اب آبنائے ہرمز پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایران کی معیشت تیزی سے تباہ ہورہی ہے۔ ’’وہ صرف ناگزیر انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی عوام کب اٹھیں گے اور لڑیں گے؟‘‘
ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی کارروائیوں کا جواب مزید شدید اور وسیع پیمانے پر دیا جائے گا۔
کمانڈ نے بیان میں کہا کہ جو بھی ملک امریکی فوج کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے اس کے خطرناک نتائج بھگتنا ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔